رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری سمجھوتا ’ممکن‘، سفارت کاری کی طرف پہلا قدم: اوباما


مسٹر اوباما نے کہا کہ ایران کو ایک موقع میسر ہے کہ وہ تنہائی سے باہر نکل آئے اور نیوکلیئر تنازعے کے حوالے سے ’پیش رفت‘ دکھائے، اور یہ کہ ایرانی اہل کار اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتا ’ممکن‘ ہے جو دونوں ملکوں کے ساتھ ’کسی وسیع تر سفارت کاری کی طرف ایک ضروری پہلا قدم‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کے ساتھ ایک انٹرویو میں، مسٹر اوباما نے کہا کہ اسی تناظر میں، وہ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کام کرنے کے سلسلے میں پُرامید ہیں، جس کے بارے میں یہ تصدیق ہوجائے کہ اُس کا نیوکلیئر پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، جس کی معیشت تعزیرات کی رکاوٹوں کے بغیر فروغ پائے اور وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہم آہنگی سے قدم سے ملا کر چلے۔


این پی آر نے پیر کی علی الصبح صدر کے انٹرویو کا متن اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ایران کو ایک موقع میسر ہے کہ وہ تنہائی سے باہر نکل آئے اور نیوکلیئر تنازعے کے ضمن میں ’پیش رفت‘ دکھائے، اور یہ کہ ایرانی اہل کار اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

اُن سے پوچھا گیا کہ اِسی ماہ کیوبا کے ساتھ قریبی تعلقات کی طرف قدم بڑھانے کے بعد، کیا امریکہ تہران میں سفارت خانہ کھولے گا، جس پر صدر نے کہا کہ وہ کبھی یہ نہیں کہیں گے، کہ ’کبھی ایسا نہیں ہوسکتا‘۔ تاہم، اُنھوں نے واضح کیا کہ’یہ باتیں قدم بقدم آگے بڑھ سکتی ہیں‘۔

امریکہ نے اپریل 1980ء میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے، جس سے کچھ ہی ماہ قبل ایران کے سرگرم کارکنوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے اِس کے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

حالیہ دِنوں کے دوران، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی کے ہمراہ امریکہ کوششیں کرتا رہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جوہری ہتھیار بنانے کے بجائے، ایران اپنی جوہری تنصیبات کو پُرامن شہری مقاصد کے لیے استعمال کرے۔


ایک طویل عرصے سے ایران اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے نہیں ہے۔ اُس کا کہنا ہے وہ اپنے جوہری مواد کو بجلی پیدا کرنے اور طبی تحقیق کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

نومبر 2013ء میں، دونوں فریق ایک عبوری سمجھوتے پر رضامند ہوئے۔ تاہم، گذشتہ ماہ کی خود تعین کردہ حتمی تاریخ گزر جانے تک فریق کسی مربوط معاہدے تک نہیں پہنچ پائے۔ اُنھوں نے یہ ڈیڈلائن اگلے سال جون تک بڑھا دی ہے۔


گذشتہ ماہ، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں فریق یہ ہدف حاصل کر لیں گے۔ تاہم، متنبہ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے سلسلے میں’پی فائیو پلس ون‘ نامی گروپ نامناسب مطالبات نہ کرے۔

XS
SM
MD
LG