رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی پابندیوں سے 27 لاکھ بیرل ایرانی تیل مارکیٹ سے خارج


فائل فوٹو

امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیاں لگائے جانے کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈیوں سے تقریباً 27 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل خارج ہو گیا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز ایم ایس این بی سی ٹیلی وژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔

امریکہ نے ایران کے ساتھ چھ عالمی طاقتوں کے 2015 کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد نومبر میں ایران پر دوبارہ پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔

مئی میں واشنگٹن نے ایران سے تیل لینے والوں کے لیے پابندیوں کا استثنیٰ ختم کر دیا تھا تاکہ تہران کی برآمدات صفر کی سطح پر پہنچ جائیں۔

صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایران نے جولائی میں تقریباً ایک لاکھ بیرل کروڑ آئل برآمد کیا تھا۔ جب کہ لائٹ آئل سمیت ایران کی مجموعی برآمدات ایک لاکھ بیس ہزار بیرل یومیہ تھیں۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ ہم لگ بھگ 27 لاکھ بیرل ایرانی کروڈ آئل عالمی منڈی سے خارج کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، تاکہ ایران کو اپنی اس دولت کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی دہشت پر مبنی مہم چلانے سے باز رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایران کی تیل کی سپلائز کو مکمل طور پر مارکیٹ سے باہر رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک، روس اور دیگر ملکوں نے یکم جنوری سے تیل کی عالمی پیداوار 12 لاکھ بیرل کم کر دی ہے جس کی وجہ دنیا بھر میں تیل کی مانگ میں کمی ہے۔

اوپیک کے اس اقدام کے ساتھ ایران اور وینزویلا پر امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ منگل کے روز کروڑ آئل کے سودے 59 ڈالر فی بیرل پر ہوئے جب کہ اس سال یہ قیمت 75 ڈالر فی بیرل پر بھی رہ چکی ہے۔

امریکہ کی جانب سے نومبر میں پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے اب ایرانی تیل کی برآمدات کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG