رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: صدارتی انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل


ایران میں رواں ہفتے ہونے والے صدارتی انتخاب میں شریک امیدواران کی انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔

انتخابی دوڑ میں اب صرف چھ امیدواران رہ گئے ہیں۔ بدھ کو انتخابی مہم کا آخری روز ہے جس کے بعد جمعے کو ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کریں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اِسنا' کے مطابق بدھ کو ایک تقریب سے خطاب میں سپریم رہنما نے کہا کہ ایرانی عوام کی پولنگ میں بڑی تعداد میں شرکت سے دشمن "مایوس" ہوگا اور ، ان کے بقول، اس کے نتیجے میں ایران کو نئے راستے پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔

انتخابی دوڑ میں شریک چھ امیدواران میں سے اکثریت سپریم رہنما خامنہ ای کے قریبی سمجھے جانے والے قدامت پسند رہنمائوں کی ہے جس میں سے کسی ایک کو ایرانی عوام موجودہ صدر احمدی نژاد کا جانشین منتخب کریں گے۔

صدر احمدی نژاد مسلسل تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخاب لڑنے پر عائد آئینی پابندی کے باعث انتخاب میں شریک نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری معاملات پر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار سعید جلیلی کو انتخابی دوڑ میں شریک دیگر امیدواران پر سبقت حاصل ہے۔

لیکن اعتدال پسند امیدوار اور انتخابی دوڑ میں شریک واحد عالمِ دین حسن روحانی کی حمایت اور مقبولیت میں بھی حالیہ چند روز کے دوران میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس سے قبل منگل کو انتخابی دوڑ میں بچنے والے واحد اصلاح پسند امیدوار محمد رضا عارف نے حسن روحانی کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے بھی جناب روحانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انتخابی قوانین کے تحت صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے امیدوار کو 50 فی صد سے زائد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں۔

اگر پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار اتنے ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایک ہفتے بعد ان دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ پولنگ ہوگی جنہوں نے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG