رسائی کے لنکس

ایران میں جاری مظاہروں کے بعد حکومت کی حمایت میں ریلیاں


ایران میں ہفتہ بھر سے جاری حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے بعد حکومت کےحق میں ریلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ویڈیوز دکھائیں ہیں جن میں مظاہرین ایران کے پرچم لہرا رہے تھے اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

خامنائی نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کیلئے دوسرے ملکوں کی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ان مظاہروں میں 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خامنائی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران کے دشمنوں نے پیسے، ہتھیار، سیاست اور جاسوسی کے نظام سمیت مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ایران میں ہنگامے کرائے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ موذوں وقت پر قوم سے خطاب کر کے حالات سے آگاہ کریں گے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکٹری علی شامخانی نے ہنگاموں کی ذمہ داری امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب پر ڈالی۔ اُدھر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی متعدد ٹویٹس میں ایرانی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں اُنہوں نے کہا ،

’’ایران کے عوام بالآخر ظالم اور بدعنوان حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سابق صدر اوباما نے احمقانہ طور پر جو خطیر رقوم اُنہیں دیں، وہ یا تو دہشت گردی پر خرچ ہو رہی ہیں یا پھر حکمرانوں کی جیبوں میں جا رہی ہیں۔ لوگوں کو خوراک کی قلت، افراط زر اور حقوق کی پامالی کا سامنا ہے۔ امریکہ ایران پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے یہ بیان جاری کیا،

’’ دیگر ممالک کو بے کار اور تضحیک آمیز ٹویٹس بھیجنے کے بجائے صدر ٹرمپ کیلئے بہتر ہو گا کہ وہ ہر روز درجنوں افراد کے قتل اور بھوک کے شکار لاکھوں بے گھر لوگوں سمیت امریکہ کے اندر موجود مسائل پر نظر ڈالیں۔‘‘

امریکہ نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر غور کیلئے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائے۔اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے کہا ہے کہ ایران کے عوام آزادی کیلئے فریاد کر رہے ہیں۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے منگل کے روز وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ،’’ایرانی عوام ایک ایسی حکومت کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں جو دوسرے ملکوں میں دہشت گردی پھیلانے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے اور اپنے عوام کی ضروریات پوری کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ ایران کی حکومت کو اپنے اقدامات کا جواب دینا پڑے گا۔‘‘

اُنہوں نے انٹرویو میں مزید کہا، ’’یہ ضروری ہے کہ ایران کی حکومت کو ایسے ذرائع فراہم کرنا بند کئے جائیں جن سے وہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے اقدامات جاری رکھے۔ ایرانی لوگ اپنی حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں اور وہ اُس کے بیرونی ممالک کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں بھی شدید مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG