رسائی کے لنکس

logo-print

مظاہرین کو رویے کی 'قیمت ادا' کرنا پڑے گی: ایرانی وزیر داخلہ


ایران کے وزیر داخلہ نے متنبہ کیا ہے کہ جنہوں نے بھی "امن و امان کو خراب کیا اور قانون شکنی کی، وہ اپنے اس رویے کے ذمہ دار ہیں اور انھیں اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔"

عبدالرحمن رحمانی فضلی نے یہ بات اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر اپنے بیان میں کہی۔

جمعہ کو ایران کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے جو ہفتہ کے بعد اتوار کو بھی مختلف مقامات پر دیکھنے میں آئے۔ اس دوران حکومت کے حامی بھی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ "خوف اور دہشت کا ہر صورت مقابلہ کیا جائے گا۔"

حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم دو افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک وڈیو میں ہفتہ کو دیر گئے مغربی قصبے دورود میں مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو مظاہرین کو دکھایا گیا۔

وائس آف امریکہ کی پرشیئین سروس نے مرنے والوں کی شناخت حمزہ لاشنی اور حسین رشنو کے نام سے کی ہے اور اس سروس کے ایک نمائندے نے متاثرہ لواحقین سے بات بھی کی۔

ایک اور وڈیو میں مبینہ طور پر مظاہرین سرکاری عمارتوں پر حملہ کرتے اور بظاہر پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں الجھے نظر آ رہے ہیں۔ ان غیر مصدقہ وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہزاروں افراد ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے کر رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق تہران میں ہفتہ کو نصف شب کے بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس میں خلل بھی دیکھا گیا۔ اے ایف پی نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ اسے حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔

ایران کے وزیر برائے ٹیلی مواصلات محمد جواد آذری جھرمی نے پیغام رساں سروس ٹیلیگرام کے سربراہ کے نام ایک کھلے پیغام میں کہا ہے کہ "ٹیلیگرام چینل منافرت پر مبنی اقدام کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔" ٹیلیگرام نے اپنے اکاونٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں ہفتہ کو سیکڑوں مظاہرین یونیورسٹی آف تہران کے گردونواح میں سڑکوں کا رخ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

اسی اثناء میں حکومت کی حمایت میں بھی عوامی مظاہرے دیکھنے میں آئے جن میں مظاہرین "غداری مردہ باد" کے نعرے لگاتے رہے۔

ابتدائی طور پر یہ مظاہرے اشیاء خورنی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے لیکن ان مظاہروں کے بارے میں بہت ہی کم معلومات حاصل ہو سکی ہیں کیونکہ سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا ان کے بارے میں بہت کم ہی کوریج کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG