رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری تبادلے کے معاہدے پر تیار


ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کچھ افزودہ یورینیم ، ایندھن کے تبادلے کے معاہدے تحت ترکی بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

یہ اعلان پیر کے روز تہران میں ایرن، برازیل اور ترکی کے عہدے داروں کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ تہران اپنی 12سو کلوگرام کم افزودہ یورینیم ، جوہری ایندھن کی سطح کی زیادہ افزودہ یورینیم کے ساتھ تبادلے کے لیے بھیجنے پر رضامند ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ، جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے(آئی اے ای اے) کو اس معاہدے کے بارے میں ایک ہفتے کے اندر سرکاری طورپر مطلع کردے گا۔

آئی اےای اے کی تازہ ترین رپورٹ میں یہ کہا گیاہے کہ 1200 کلوگرام کم افزودہ یورینیم کی مقدار، ایران کے پاس موجود اس ذخیرے کے نصف سے قدرے زیادہ ہے۔

فروری میں جوہری نگران ادار نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ایندھن کا ذخیرہ 2065 کلوگرام ہے۔

ترک وزیر خارجہ احمد داوؤگلو نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ برازیل، ایرن اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے درمیان تقریباً 18 گھنٹوں کی گفت و شنید کے بعد طے پایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ عالمی طاقتیں ملک کے جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کریں گی۔

تاہم فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مصالحت کاروں کو خود کو یہ دھوکہ نہیں دینا چاہیے کہ اس معاہدے سے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ تمام مسائل حل ہوگئے ہیں۔

فرانس مغربی اقوام کے اس گروپ میں شامل ہے جو ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے ایک نئے مرحلے پر زور دے رہے ہیں۔

برازیل اور ترکی دونوں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن ہیں جو اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران کو جوہری ایندھن کے تبادلے کے معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔

امریکہ اور اس کے مغربی ساتھی ، ایران پر ایک جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کام کرنے کا الزام لگاتے ہیں جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کاپروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG