رسائی کے لنکس

logo-print

ایران 'سنجیدہ' جوہری مذاکرات پر آمادہ ہے، صدر روحانی


نومنتخب ایرانی صدر نے واضح کیا ہے کہ ان کی قوم "پوری دنیا کے ساتھ باعزت طریقے سے بات چیت" کرنا چاہتی ہے

ایران کے نئے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تہران کے جوہری پروگرام پر "سنجیدہ اور بامقصد" مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد منگل کو اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب میں نومنتخب صدر نے واضح کیا کہ ان کی قوم "پوری دنیا کے ساتھ باعزت طریقے سے بات چیت" کرنا چاہتی ہے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے بھی آمادہ ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور بعض مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جب کہ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام سراسر پرامن مقاصد کے لیے ہے جس کی کوئی عسکری جہت نہیں۔

ایرانی صدر کے بیان سے قبل پیر کو امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جے کارنے نے کہا تھا کہ اگر ایران "قابلِ بھروسا طریقے" سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے تو ایرانی حکومت کے پاس بین الاقوامی برادری کے ساتھ معاملات طے کرنے اور "دنیا میں اپنی تنہائی کا بوجھ کم کرنے" کا موقع موجود ہے۔

ایرانی صدر نے اپنے ایک 'ٹوئٹر' پیغام میں امریکہ کی اس پیش کش پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن کسی پوشیدہ ایجنڈے کے بغیر باہمی احترام اور خیرسگالی کے جذبے کے تحت اور برابری کی بنیاد پر معاملہ کرنا چاہے تو بات چیت کی راہیں کھلی ہیں۔

حسن روحانی جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ایران کے نئے صدر منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے پیش رو محمود احمدی نژاد کی مدتِ صدارت کے خاتمے پر اتوار کو اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔

جناب روحانی ایک عالمِ دین ہیں لیکن انہیں اصلاح پسند اور معتدل خیالات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ انہیں اپنی مدتِ صدارت کے دوران میں جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے باعث ابتر ہوتی ملکی معیشت کو دوبارہ سے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔

منگل کو اپنی افتتاحی پریس کانفرنس میں ایرانی صدر نے کہا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران میں کیے جانے والے وعدوں کو وفا کریں گے اور اپنی حکومت کو شفاف اور عوام کو جواب دہ بنائیں گے۔

لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ عوام کی مدد کے بغیر ان کی حکومت اپنے طویل المدتی اہداف حاصل نہیں کرسکتی۔
XS
SM
MD
LG