رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسندوں کے خلاف عراق کی مدد کو تیار ہیں: ایرانی جنرل


بریگیڈیئر جنرل مسعود جزایری نے ایرانی ٹی وی "علم" کو بتایا کہ ملیشیا کے خلاف ان کے ملک کا ردعمل "یقینی اور سنجیدہ" ہوگا۔

ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق میں بھی ایسے ہی طریقہ کار اپنانے کو تیار ہے جواس نے شام میں حکومت مخالف فورسز سے نمٹنے کے لیے اختیار کیا اور انھوں نے تجویز دی کہ تہران بغداد کے لیے خطرہ بننے والے سنی شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کی پیشکش کررہا ہے۔

ایران کے رہنما یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ پڑوسی ملک عراق میں شیعہ مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کے تحفظ میں مدد فراہم کریں گے، لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراقی خود بھی یہ کام کرنے کے قابل ہیں۔

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے گزشتہ اتوار یہ بھی کہا تھا کہ وہ عراق میں دولت اسلامیہ فی عراق ولشام (داعش) کے سنی شدت پسندوں کے خلاف امریکہ یا کسی دوسری طاقت کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے حالیہ ہفتوں میں عراق کے شمال اور مغرب میں بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ نورالمالکی کی شیعہ اکثریت والی حکومت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی جوائنٹ چیف آف اسٹاف اور پاسداران انقلاب کے ایک سینیئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل مسعود جزایری نے ایرانی ٹی وی "علم" کو بتایا کہ ملیشیا کے خلاف ان کے ملک کا ردعمل "یقینی اور سنجیدہ" ہوگا۔

بغداد کو ممکنہ طور پر فراہم کی جانے والی معاونت سے متعلق ان کے اس بیان کی مزید تفصیل سامنے نہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایران دفاع اور انٹیلی جنس میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

"ایران نے عراقی حکام کو بتا دیا ہے کہ وہ دفاع کے تمام شعبوں سے متعلق اپنے کامیاب تجربات انھیں فراہم کرسکتا ہے، شام میں دہشت گردوں کے خلاف کامیابی کی حکمت عملی۔۔۔۔ اور یہی حکمت عملی اب عراق میں بھی نظر آرہی ہے، جس میں تمام نسلی گروہوں کو متحرک کرنا بھی شامل ہے۔"

انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "ردعمل یقینی اور سنجیدہ ہے۔ شام میں بھی ہم نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بھرتی کردہ دہشت گردوں کو اجازت نہیں دیں گے کہ شام کے عوام پر حکمرانی کریں اور ان پر اپنا حکم مسلط کریں۔ ہم عراق میں بھی ایسا ہی طریقہ اپنائیں گے۔"

شیعہ اکثریتی آبادی والا ملک ایران اپنے اتحادی شام کے صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالرز خرچ کر چکا ہے لیکن وہاں خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال جنم لے چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG