رسائی کے لنکس

logo-print

نجی زندگیوں میں مداخلت نہ کی جائے، نومنتخب ایرانی صدر


نومنتخب ایرانی صدر کے بقول ہر معاملے میں مداخلت کرنے اور عوام کی زندگیوں کو محدود کرنے والی حکومت کو مضبوط حکومت نہیں کہا جاسکتا۔

ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی نے ملک میں ایک آزاد معاشرے کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اور مذہبی طبقے کو عوام کی نجی زندگیوں میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

بدھ کو دارالحکومت تہران میں علما کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب ایرانی صدر نے ملک میں انٹرنیٹ کے آزادانہ استعمال کو فروغ اور سرکاری ذرائع ابلاغ کو زیادہ آزادی دینے پر بھی زور دیا۔

جناب روحانی کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اس وقت معاشرے میں تبدیلی کی آس لگائے ہوئے ہیں اور ایسے وقت میں ایرانی حکومت یا مذہبی طبقے کے درمیان کسی قسم کا اختلاف جنم نہیں لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں مداخلت کرنے اور عوام کی زندگیوں کو محدود کرنے والی حکومت کو مضبوط حکومت نہیں کہا جاسکتا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کی طاقت کا انحصار لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے، انہیں سہولتیں دینے، ان کی مشکلات کم کرنے اور عوام کی ترقی اور تبدیلی کی خواہش کو پورا کرنے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کو "برداشت، ترقی اور حکمت" کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

ایرانی صدر نے 'سوشل میڈیا' کو ایک خوش آئندہ رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کو 'فیس بک' جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو قبول کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں ایران کے داخلی مسائل نظر انداز کرنے پر سرکاری ٹی وی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

نومنتخب ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سرکاری ٹی وی چین میں ایک پانڈا کی پیدائش کی خبر تو نشر کرتا ہے لیکن ملک میں تنخواہوں سے محروم ملازمین کے احتجاج کے بارے میں کچھ نہیں دکھاتا۔ ان کے بقول سرکاری ٹی وی کی اس روش کے بعد لامحالہ عوام اور نوجوان اسے دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔

اپنی حکومت کو درپیش مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب روحانی نے کہا کہ ماضی میں کسی بھی ایرانی حکومت کو اتنے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے بقول ملک کو درپیش مسائل چند دنوں یا مہینوں میں حل نہیں کیے جاسکتے۔

اصلاح پسند عالمِ دین حسن روحانی جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ایران کے صدر منتخب ہوئے تھےاور وہ آئندہ ماہ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

حسن روحانی کا شمار ایران کے سینئر سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور وہ کئی اہم سرکاری اور ریاستی ذمہ داریوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں فقہ جعفریہ کے 'مجتہد' کا مقام بھی حاصل ہے جس کے باعث ایران کے مذہبی حلقوں میں بھی ان کی حمایت موجود ہے۔
XS
SM
MD
LG