رسائی کے لنکس

logo-print

خلیج میں کشیدگی کم کرانے کے لیے روس کی کوششیں


روسی صدر پوٹن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان۔ فائل فوٹو

روس کے صدر ولادی میر پوٹن پیر کے روز دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد سعودی عرب کے دورے پر جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی علاقے میں موجود کشیدگیاں کم کرنے میں وہ ایک مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں اس وقت تناؤ میں مزید اضافہ ہوا جب 14 ستمبر کو سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے ہوئے جس سے تیل صاف کرنے کے کارخانوں کو نقصان پہنچا اور تیل کی پیداوار متاثر ہوئی۔

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ڈرونز اور میزائلوں سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے۔

ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے سے سعودی دفاعی نظام کی خرابیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ نے اپنے مزید تین ہزار فوجی سعودی عرب بھجوا دیے ہیں۔

صدر پوٹن نے 'العربیہ ٹیلی ویژن' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ سعودی تنصیبات پر حملوں میں کس کا ہاتھ ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب حملے ہوئے تو اگلے روز میں نے اپنی انٹیلی جنس سروس اور وزیر دفاع سے پوچھا کہ قصوروار کون ہے، لیکن ان کا جواب تھا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔

صدر پوٹن نے کہا کہ جب ان کے پاس مصدقہ معلومات ہی نہیں ہیں تو وہ کسی پر الزام کیسے لگا سکتے ہیں۔

دوسری جانب جمعے کے روز بحیرہ احمر میں ایرانی آئل ٹینکر پر حملہ ہوا، جس کا الزام تہران نے سعودی عرب پر لگایا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ عادل بن الجبیر نے ریاض میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ولادی میر پوٹن پیر کے روز سعودی عرب پہنچنے کے بعد شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے مذاکرات کریں گے اور وہ اگلے روز متحدہ عرب امارت کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

سعودی عرب اور روس دونوں ہی تیل پیدا کرنے والے دنیا کے دو بڑے ملک ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی ایران اور سعودی عرب میں تناؤ کم کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ اگلے مرحلے میں وہ سعودی قیادت سے ملنے ریاض جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG