رسائی کے لنکس

logo-print

آئل ٹینکر تحویل میں لینے کا برطانوی اقدام ناقابل برداشت ہے: ایران


برطانیہ نے جمعرات کو ایران کا تیل بردار جہاز جبل الطارق میں قبضے میں لیا تھا۔

ایران نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ایران کے آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کا اقدام ناقابل برداشت اور بحری چوری کے مترادف ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ آئل ٹینکر شام نہیں جا رہا تھا۔

برطانیہ کی رائل نیوی نے گزشتہ ہفتے جبل الطارق کے پانیوں میں ایران کا ایک تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیا تھا۔ حکام نے دعویٰ کیا تھا یہ آئل ٹینکر پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لگ بھگ 3 لاکھ ٹن خام تیل لے کر شام جا رہا تھا۔

امریکہ نے برطانیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ایک اچھی خبر قرار دیا تھا۔

یورپی یونین نے 2011ء سے شام پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ایران کے وزیر دفاع عامر حتامی نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں وضاحت کی کہ ایران کا تیل بردار جہاز شام نہیں جا رہا تھا، شام میں بشار الاسد کی حکومت کو ایران کا حلیف سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی حکام کے مطابق، قوانین کے تحت آئل ٹینکر کو 14 روز تک قبضے میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے دھمکی دی تھی کہ برطانیہ کے اس اقدام پر ایران بھی برطانیہ کا جہاز پکڑ سکتا ہے۔

ایران کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’'ان دنوں ہم دیکھ رہے ہیں کہ برطانیہ کی حکومت پر خطر اقدامات کر رہی ہے۔ انھوں نے جبل الطارق میں ہمارا تیل بردار جہاز پکڑ لیا ہے۔ یہ اقدام 'بحری چوری' کے مترادف اور ناقابل قبول ہے۔'‘

ایران نے امریکی پابندیوں کے بعد یورینیم کی افزودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
ایران نے امریکی پابندیوں کے بعد یورینیم کی افزودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے ڈپٹی وزیر خارجہ عباس اراقچی کے مطابق آئل ٹینکر شام نہیں جا رہا تھا۔ تاہم، انھوں نے جہاز کی منزل کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ایرانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکہ کا جاسوس طیارہ گرا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات کا بھرپور دفاع کرنا جانتا ہے۔

ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکی ڈرون طیارہ مار گرایا تھا۔ تاہم، امریکہ کا یہ موقف تھا کہ یہ طیارہ خلیج میں بین الاقوامی فضائی حدود میں معمول کی پرواز کر رہا تھا۔

ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے ائر ڈیفنس سسٹم کا معائنہ کر رہے ہیں۔
ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے ائر ڈیفنس سسٹم کا معائنہ کر رہے ہیں۔

امریکہ، ایران تعلقات کشیدگی میں اضافہ

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب گزشتہ سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

امریکہ نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ ممالک کا استثنٰی بھی ختم کر دیا تھا۔ ایران نے جوہری معاہدے کے ضامن یورپی ممالک کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ ایران کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اس سے تیل کی تجارت جاری رکھیں۔

کشیدگی کے پیش نظر امریکہ کے جنگی جہاز مشرق وسطی میں موجود ہیں۔
کشیدگی کے پیش نظر امریکہ کے جنگی جہاز مشرق وسطی میں موجود ہیں۔

ایران نے بصورت دیگر جوہری معاہدے میں طے شدہ یورینیم کی افزودگی سے زیادہ مقدار افزودہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

امریکہ اور سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ اور خلیج میں آئل ٹینکرز پر حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔ امریکہ نے کشیدگی کے پیش نظر اپنا جنگی بیڑہ اور مزید فوجی بھی مشرق وسطیٰ بھجوا دیے تھے۔

گزشتہ ماہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارہ گرائے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم بھی دے دیا تھا، جس پر عمل درآمد محض چند لمحات پہلے روک دیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی پیشکش بھی کر رکھی ہے، جس پر ایران کا موقف ہے کہ پہلے امریکہ اس پر عائد پابندیاں اٹھائے اس کے بعد ہی مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG