رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین کے جہاز میں اچانک آگ لگ گئی تھی، ایران


آٹھ جنوری کو تہران میں گر کر تباہ ہونے والا یوکرین کا طیارہ۔

ایران نے تہران کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے یوکرین کے جہاز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ جہاز میں اڑان بھرنے کے چند ہی منٹ بعد آگ بھڑک اٹھی تھی، مگر جہاز کے عملے نے مدد کیلئے کوئی سگنل نہیں بھیجا۔ جہاز ہوائی اڈے کی طرف واپس مڑتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔

تاہم، یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کے خیال میں یہ حادثہ ایران سے میزائل حملے کے باعث پیش آیا ہے۔

عینی شاہدوں اور اس جہاز سے کچھ اوپر پرواز کرنے والے ایک اور کمپنی کے جہاز کے عملے کا کہنا ہے کہ صبح 6:18 پر کریش کرنے سے قبل انہوں نے جہاز کو شعلوں میں لپٹتے ہوئے دیکھا۔

معروف جریدے نیوزویک میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون کے ایک سینئر اہلکار، ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار اور عراقی انٹیلی جنس اہلکار نے نیوزویک کو بتایا ہے کہ جہاز کو ایک طیارہ شکن میزائل کے ذریعے گرایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز کو روسی ساخت کے TOR M1 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

پینٹاگون اور امریکی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے نیوزویک کو بتایا کہ غالب امکان یہ ہے کہ اس جہاز کو غلطی سے میزائل کے ذریعے گرایا گیا، کیونکہ ایران کا طیارہ شکن میزائل نظام عراق میں ایران کے میزائل حملوں کے بعد فعال تھا۔

تاہم، جب صدر ٹرمپ سے نیوزویک کی اس رپورٹ کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز ایک خراب علاقے سے گزر رہا تھا اور عین ممکن ہے کہ یہ کسی کی غلطی کی وجہ سے گرایا گیا ہو۔

ایران کے سول ایوی ایشن کے ادارے کے سربراہ نے اس حادثے کی تحقیقات کیلئے کینیڈا اور سویڈن سے بھی مدد طلب کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG