رسائی کے لنکس

logo-print

ایران نے برطانوی جہاز تحویل میں لے لیا، برطانیہ کی سنگین نتائج کی دھمکی


ایران نے برطانوی بحری جہاز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں تحویل میں لیا ہے۔

ایران نے بین الا قوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے برطانیہ کا ایک بحری جہاز پکڑ کر اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ایران کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعے کو ایک برطانوی بحری جہاز بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر تحویل میں لیا ہے۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز آبنائے ہرمز میں مچھیروں کی ایک کشتی سے ٹکرایا تھا۔

ایران کی جانب سے برطانوی جہاز کے تحویل میں لینے کے بعد برطانیہ نے اپنے جہازوں کو کچھ عرصے تک آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے برطانیہ کے دو بحری جہاز پکڑے ہیں۔ لیکن ایران نے برطانیہ کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ جیرِمی ہنٹ نے کہا ہے کہ مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

ہفتے کو اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے جیرِمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کسی فوجی آپشن پر غور نہیں کر رہا بلکہ معاملے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی بندرگاہ بندر عباس کے حکام کے مطابق ’اسٹینا اِمپیرو‘ نامی جہاز جمعے کو سعودی عرب جا رہا تھا جب وہ مچھیروں کی ایک کشتی سے ٹکرا گیا۔

ایران کے صوبہ ہرمزگان کی بندرگاہ کے ڈائریکٹر جنرل اللہ مراد نے کہا کہ برطانوی جہاز مچھیروں کی کشتی سے ٹکرایا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ ضروری ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد کشتی میں سوار لوگوں نے برطانوی جہاز کے عملے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہ دیے جانے پر ماہی گیروں نے ہرمزگان کی بندرگاہ کے حکام کو مطلع کیا۔

جہاز میں 23 افراد پر مشتمل عملہ بھی سوار ہے۔ ہرمزگان کے مقامی حکام نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

جہازوں کا ٹریکنگ ڈیٹا مرتب کرنے والے ادارے نے جہاز کی آخری لوکیشن لارک نامی جزیرے کے قریب ظاہر کی ہے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق پکڑے جانے والے جہاز کے مالک ادارے نے کہا ہے کہ برطانوی بحری جہاز بین الاقوامی سمندری حدود میں آبنائے ہُرمز سے گزر رہا تھا جب اس پر نامعلوم چھوٹی کشتیوں اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے حملہ کیا گیا۔

برطانیہ نے جس دوسرے جہاز کے پکڑے جانے کا دعویٰ کیا تھا اس کے مالک نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ ان کے جہاز کو عارضی طور پر مسلح اہلکاروں نے روکا تھا لیکن پھر چھوڑ دیا گیا۔ جہاز اور اس کا تمام عملہ محفوظ ہے۔

واضح رہے کہ ایران کا بھی ایک بحری جہاز برطانیہ کی تحویل میں ہے۔ برطانیہ کو جبرالٹر کی عدالت نے 30 دن کے لیے ایران کا بحری جہاز اپنی تحویل میں رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

ایران کے جانب سے جہاز روکنے کے یہ واقعات جبرالٹر کی عدالت کے اس فیصلے کے چند گھنٹوں بعد رونما ہوئے ہیں۔

برطانیہ نے ایران کا تیل بردار بحری جہاز یورپین یونین کی جانب سے شام کو تیل فروخت کرنے پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کے الزام پر پکڑ لیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ اتوار کو متحدہ عرب امارات کا ایک بحری جہاز آبنائے ہرمز سے غائب ہوا تھا۔

متحدہ عرب اِمارات کا ایران کی سمندری حدود میں غائب ہونے والا تیل بردار جہاز ’ریاہ‘
متحدہ عرب اِمارات کا ایران کی سمندری حدود میں غائب ہونے والا تیل بردار جہاز ’ریاہ‘

​میڈیا رپورٹس کے مطابق ’ریاہ‘ نامی جہاز کی لوکیشن آخری بار ایران کی سمندری حدود سے موصول ہوئی تھی جس کے بعد یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ جہاز ایران نے پکڑ لیا ہے۔

ایرانی حکام نے جمعرات کو ایک غیر ملکی آئل ٹینکر کو تیل کی اسمگلنگ کے الزام میں 12 لوگوں کے عملے سمیت پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم ایرانی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا جمعے کو پکڑا جانے والا برطانوی بحری جہاز وہی ہے جو اتوار کو ایران کی سرحدی حدود میں غائب ہو گیا تھا یا پھر یہ کوئی دوسرا بحری جہاز ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG