رسائی کے لنکس

logo-print

ایران میں جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزا


گزشتہ سال متعدد افراد کو بوشہر سے گرفتار کیا گیا تھا

تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ جن افراد کو سزا سنائی گئی ان میں سے ایک کہیں ایرانی نژاد امریکی شہری جیسن رضائیاں تو نہیں جو واشگنٹن پوسٹ کے نامہ نگار ہیں

ایران کی ایک عدالت نے دو افراد کو جاسوسی کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی ہے لیکن ان مشتبہ افراد کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔

عدالت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان دونوں افراد نے امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کی۔

ایران نے گزشتہ اکتوبر میں اپنے جنوبی صوبے بوشہر سے متعدد لوگوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا جن دو افراد کو سزا سنائی گئی ہے وہ بھی گزشتہ سال گرفتار کیے جانے والوں میں سے ہیں یا نہیں۔

بوشہر میں ایران نے اپنا جوہری توانائی کا منصوبہ شروع کیا تھا۔

تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ جن افراد کو سزا سنائی گئی ان میں سے کہیں ایک ایرانی نژاد امریکی شہری جیسن رضائیاں تو نہیں جو واشگنٹن پوسٹ کے نامہ نگار ہیں اور انھیں گزشتہ سال گرفتار کر کے ان پر جاسوسی کے الزامات میں مقدمہ چلایا گیا جس پر کارروائی رواں ماہ ہی ختم ہوئی تھی۔

لیکن واشنگٹن پوسٹ کے بین الاقوامی امور کے ایڈیٹر ڈگلس جیہل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے اخبار کا ماننا ہے کہ رضائیاں ان لوگوں میں نہیں جنہیں سزا سنائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی ترجمان کے بقول ان کے پاس رضائیاں کے بارے میں کوئی نئی معلومات نہیں ہے۔

اس امریکی صحافی پر مقدمہ بند کمرے کی عدالت میں چلایا گیا اور اس پر عائد الزامات کی تفصیل بھی مبہم ہے۔

واشگنٹن نے رضائیاں پر عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مقدمے کو شرمناک قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ رضائیاں سمیت ایران میں گرفتار اپنے تمام شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG