رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی سائنسدان امریکہ سے جانے کے لیے آزاد ہیں: ہلری کلنٹن


کلنٹن نے منگل کے روز بتایا کہ امیری اپنی مرضی سےہی امریکہ آئے اورچاہیں تو واپس جا سکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ امیری کا پیر کو ایران جانے کا پروگرام تھا لیکن وہ سفر کے تمام انتظامات مکمل نہیں کر پائے

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ایرانی انٹریسٹ سیکشن، جو کہ پاکستانی سفارتخانے کی زیرنگرانی ہے، میں نمودار ہونے والے ایرانی جوہری سائنس دان اپنی مرضی سے امریکہ میں ہیں اور اپنی مرضی سے جاسکتے ہیں۔

ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہرام امیری کو امریکہ نے اغوا کیا تھا۔
کلنٹن نے منگل کے روز بتایا کہ امیری اپنی مرضی سےہی امریکہ آئے اورچاہیں تو واپس جا سکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ امیری کا پیر کو ایران جانے کا پروگرام تھا لیکن وہ سفر کے تمام انتظامات مکمل نہیں کر پائے۔

امیری تیس کے پیٹے میں ہے، اور نیوکلیئر سائنس دان ہیں، انھوں نے جون 2009ء میں ایران چھوڑا۔ ایران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کےایک دورے میں امیری کو امریکی انٹیلی جنس کے حوالے کیا گیا تھا۔ امریکہ نے امیری کے اغوا کی تردید کی ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ امیری نے منگل کو فون پر اپنے ایک نامہ نگارکو بتایا کہ اُن کا اغوا امریکہ کے لیے بدنامی کا باعث ہے۔
امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے منگل کو بتایا کہ اُن کا پاس ایسی کوئی معلومات نہیں جِس سے پتا چلتا ہو کہ امیری کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی ہوئی ہو۔

XS
SM
MD
LG