رسائی کے لنکس

ایران حوثیوں کو ڈرون سمیت دیگر ہتھیار فراہم کر رہا ہے: رپورٹ


حوثیوں کے وفادار قبائلی جنگجو (فائل فوٹو)

ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ باغی اور صالح کی وفادار فورسز ان ڈرونز کے ذریعے سعودی اتحاد کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ یمن میں حوثی باغی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح سے وابستہ فورسز سعودی زیر قیادت اتحادی فورسز کے میزائل دفاعی نظام پر حملوں کے لیے "کامیکیز" نامی ڈرون طیارے استعمال کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے تعاون سے لندن میں قائم مرکز "کنفلیکٹ آرمامنٹ ریسرچ" کے ایک مطالعے کے مطابق ایران دو سال قبل یمن میں شروع ہونے والی لڑائی کے لیے حوثی فورسز اور صالح کے وفاداروں کو اسلحہ فراہم کرتا آ رہا ہے۔

یہ سینٹر روایتی ہتھیاروں کے استعمال اور ان کی نقل و حمل پر نظر رکھتا ہے۔

سینٹر نے بدھ کو جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ ایران کی طرف سے فراہم کیے گئے اسلحہ میں بغیر ہوا باز کے طیارے بھی شامل رہے ہیں۔

2015ء میں حوثی باغیوں نے صدر عبد ربو منصور ہادی کی حکومت کی عملداری ختم کر دی تھی جس کے بعد سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس ملک میں کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

اس وقت شیعہ حوثی باغی دارالحکومت صنعا سمیت شمال مغرب میں ملک کے وسیع رقبے پر تسلط رکھتے ہیں جب کہ سرکاری فورسز ملک کے تقریباً پسماندہ جنوب اور مشرقی علاقوں میں غالب ہیں۔

ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ باغی اور صالح کی وفادار فورسز ان ڈرونز کے ذریعے سعودی اتحاد کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

"وہ ان ڈرونز کو راڈار سسٹم پر گرا دیتے ہیں اور ان طیاروں کو میزائل کی پوزیشن جاننے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔"

امریکی اور مغربی حکام کے مطابق ایران سے یمن میں اپنے اتحادیوں کے لیے عسکری نقل و حمل میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے۔

منگل کو بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس حکام نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ ایران نے حوثیوں کے لیے اسلحے کی فراہمی کو تیز کیا ہے۔

ایران، سعودی عرب اور مغرب کے ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ وہ حوثیوں کو کسی بھی طرح کی مالی یا عسکری معاونت فراہم کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG