رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں امریکی سرپرستی میں نئی فورس کی تشکیل، ایران کی نکتہ چینی


شام میں ترک سرحد کے قریب امریکی فوجی اور کرد جنگجو بات چیت کر رہے ہیں۔ اپریل 2017

ایران نے کہا ہے کہ شام میں امریکہ کی سرپرستی میں قائم کی جانے والی 30 ہزار افراد پر مشتمل نئی مضبوط فورس کے قیام سے صرف جنگ کے شعلوں کو ہی ہوا ملے گی۔

ایران کا یہ بیان روس اور ترکی کے رد عمل کی بازگشت ہے جس میں ان دونوں ملکوں نے امریکی منصوبے پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔

اتوار کے روز امریکی قیادت کے اتحاد نے کہا تھا کہ وہ شام کی ملیشاؤں کے اتحاد کے ساتھ مل کر ایک نئی فورس کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے جو شام کے اندر ترکی اور عراق کی سرحدوں پر تعینات کی جائے گی۔ نئی مجوزہ فورس میں اکثریت شام کے حکومت مخالف گروپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز یعنی ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کی ہوگی۔

شام کے صدر بشارالاسد نے اپنے ردعمل میں نئی فورس کی کچلنے اور امریکی فوجیوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

شام کے سب سے مضبوط اتحادی روس نے امریکی منصوبے کو شام کے ٹکڑے کرنے اور اس کا کچھ حصہ اپنے کنڑول میں رکھنے کا پلاٹ قرار دیا ہے جب کہ ترکی نے نئی فورس کو ’دہشت گرد فوج‘ کا نام دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ اس طرح کی فورس کے قیام سے شام کی کشیدگیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

ایران گذشتہ تقریباً سات سال ہے شام کی خانہ جنگی میں باغی فورسز اور داعش کے خلاف صدر بشارالاسد کی ہتھیاروں اور فوجیوں کے ساتھ مدد کر رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایک نئی سرحدی فورس کے قیام کا اعلان یقیناً شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ انہوں نے شام سے امریکی فورسز کے فوری انخلا پر بھی زور دیا۔

امریکہ شام میں اس بین الاقوامی فوجی اتحاد کی قیادت کر رہاہے جو داعش کے خلاف لڑنے والے شامی جنگجوؤں کی مدد کے لیے فضائی بمباری اور جنگی امور میں مشاورت کر رہا ہے۔ شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً 2 ہزار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG