رسائی کے لنکس

شام کی سرحد پر حملے میں شیعہ ملیشیا کے 36 جنگجو ہلاک


فائل فوٹو

ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا’ کتائب سیدالشہدا ‘کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پیر کے روز ہونے والے حملے میں ان کے 36 جنگجو ہلاک اور 75 زخمی ہو گئے تھے جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔

مشرق وسطی میں داعش کے خلاف لڑنے والے امریکی قیادت کی فورسز نے کہا ہے کہ شام کی سرحد کے قریب وہ حملہ انہوں نے نہیں کیا تھا جس میں عراقی ملیشیا اور ایران کے اسلامی سپاہ پاسداران انقلاب کے درجنوں کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا’ کتائب سیدالشہدا ‘کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پیر کے روز ہونے والے حملے میں ان کے 36 جنگجو ہلاک اور 75 زخمی ہو گئے تھے جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادي نے منگل کے روز کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش نے ملیشیا گروپ کے خلاف حملہ کیا تھا۔

عبادی نے بغداد میں ٹیلی وژن پر ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ داعش نے توپ خانے اور کار بموں کے ساتھ یہ حملہ کیا تھا۔

امریکی قیادت کے فوجی اتحاد نے، جو وہاں داعش کےخلاف عراق اور شام میں فضائی حملے کر رہا ہے، کہا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات درست نہیں ہیں اور انہوں نے مذکورہ علاقے میں اس وقت کے دوران کوئی فضائی حملہ نہیں کیا۔

داعش کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس حملے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں، گولہ بارود اور ہتھیار اپنے قبضے میں لے لیے۔

عراق کی وزارت دفاع نے اس دعوے پر اپنا در عمل دینے سے انکار کر دیا۔

ایران کی حمایت یافتہ کتائب سید الشہدا عراقی شیعہ ملیشیا کا ایک حصہ ہے جنہیں الحشد الشعبي کہا جاتا ہے۔ یہ فورسز بغداد کو جواب دہ ہیں۔ ان میں ایران کی مذہبی قیادت سے وفاداری رکھنے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔

ایران کے خبررساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی سے اپنے ایک انٹرویو میں کتائب سید الشہد کے ایک لیڈر أبو اعلیٰ نے یہ إلزام لگایا کہ داعش اور امریکہ مل کر ان کی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جن میں ان کا ایک کمانڈر بھی شامل تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG