رسائی کے لنکس

امریکہ جوہری معاہدہ ختم کر کے پچھتائے گا: ایرانی صدر


ایرانی صدر حسن روحانی۔ فائل فوٹو

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے ساتھ موجود جوہری معاہدے سے ہاتھ کھینچ لیا تو وہ پچھتائے گا۔ اُنہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران اُن کی توقع سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گا۔

اگر صدر ٹرمپ 12 مئی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی دوبارہ توثیق نہیں کرتے تو پھر ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی۔ صدر ٹرمپ نے 12 مئی کی تاریخ اسلئے مقرر کی ہے تاکہ یورپی طاقتیں ایران کے ساتھ بقول اُن کے جوہرے معاہدے میں موجود خرابیوں کو دور کر لیں۔ امریکہ نے ایک معاہدے کے تحت 2015 میں ایران پر سے پابندیاں ہٹا لی تھیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا، ’’نئے امریکی صدر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور اُن کے قول و فعل میں بہت سی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ وہ گزشتہ 15 ماہ سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم یہ معاہدہ اتنا مضبوط ہے کہ وہ ایسے جھٹکے برداشت کر لے گا۔‘‘

اُنہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ تاہم اگر امریکہ نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کی تو وہ یقینی طور پر پچھتائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایران کا رد عمل امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ سخت ہو گا اور امریکہ اسے ایک ہفتے کے اندر دیکھ لے گا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال بنا دے گا اور معاہدے سے پہلے کے مقابلے میں جوہری استعداد میں بہت اضافہ کر دے گا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ وہ اس حوالے سے تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں ایک امکان یہ ہے کہ جوہری معاہدے کو امریکہ کے بغیر یورپی ممالک، چین اور روس کی شراکت میں جاری رکھے یا پھر معاہدہ یکسر ختم کر دیا جائے۔

فرانس، برطانیہ اور جرمنی ایران کے خلاف ایسی تادیبی کارروائیوں کیلئے یورپی حلیفوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں جن سے صدر ٹرمپ کو معاہدہ جاری رکھنے پر قائل کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایسی ہوں گی جو اُن ایرانی افراد پر لگائی جائیں گی جن کے بارے یورپی ممالک کا خیال ہے کہ وہ ایران کے جوہری میزائلوں کے پروگرام کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ شام کے صدر بشر الاسد کیلئے ایرانی حمایت پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔

ایرانی صدر روحانی نے پیر کے روز اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران کی جوہری صلاحیت صرف دفاعی مقاصد کیلئے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کا ملک اپنے دفاع کیلئے ہر قسم کے ضروری ہتھیار تیار کرے گا۔ تاہم ایران یہ ہتھیار اپنے ہمسائیوں کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG