رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری معاہدے سے مرحلہ وار علیحدگی جاری رہے گی، ایران کا انتباہ


ایران کے صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف (فائل فوٹو)

ایران نے ایک بار پھر یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسے امریکہ کی پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کریں، بصورت دیگر ایران جوہری معاہدے کی پاسداری سے مرحلہ وار دستبردار ہوتا رہے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ایران کو خام تیل فروخت کرنے کے عوض رقوم وصول کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

"یورپی ممالک 2015 کے جوہری معاہدے کے ضامن ہیں، وہ یقینی بنائیں کہ ایران امریکی پابندیوں سے محفوظ رہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر ایران کے پاس جوہری معاہدے سے دستبرداری کے سوا کوئی چارہ نہیں۔"

ایران اس سے قبل بھی متعدد بار یہ دھمکی دے چکا ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے مرحلہ وار دستبردار ہو جائے گا۔ تاہم، یورپی ممالک ایران کو ایسا کرنے سے روکتے رہے ہیں۔

ایران نے امریکی پابندیوں کے پیش نظر 2015 میں طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی بڑھا دی تھی، جس کی تصدیق عالمی توانائی ادارے (آئی اے ای اے) نے بھی کی تھی۔

صدر حسن روحانی تہران میں جوہری پروگرام سے متعلق بریفنگ لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
صدر حسن روحانی تہران میں جوہری پروگرام سے متعلق بریفنگ لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال ایران کے ساتھ 2015 میں طے شدہ جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ ہوگئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اوباما انتظامیہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے میں کئی نقائص موجود ہیں، اور ایران اس کے باوجود اپنا جوہری پروگرام آگے بڑھا رہا ہے۔

برطانیہ سمیت یورپ کے بڑے ممالک بھی اس معاہدے کے ضامن تھے۔

ایران نے مئی میں یورپی ممالک کو 60 روز کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اسے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔ تاہم، بعد ازاں، اس الٹی میٹم میں توسیع کر دی گئی تھی۔

امریکہ، ایران کشیدگی میں اضافہ

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی، جب صدر ٹرمپ نے مئی کے آغاز میں ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ ممالک کا استثنٰی ختم کر دیا تھا۔

ایران نے ان ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ امریکی پابندیوں کو خاطر میں لائے بغیر اس سے تیل کی خریداری جاری رکھیں۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے اپنے جنگی بیڑے اور اضافی فوجی بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کر رکھے ہیں۔

ایران نے گزشتہ دنوں امریکہ کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ کے بقول، انہوں نے ایران پر حملے کا فیصلہ عین وقت پر تبدیل کر لیا تھا۔

ایران کی جانب سے قبضے میں لیا گیا برطانوی بحری جہاز۔(فائل فوٹو)
ایران کی جانب سے قبضے میں لیا گیا برطانوی بحری جہاز۔(فائل فوٹو)

گزشتہ دنوں جبل الطارق کے پانیوں میں برطانیہ کی رائل نیوی نے ایران کا تیل بردار جہاز پکڑ لیا تھا۔ حکام نے شہبہ ظاہر کیا تھا کہ یہ جہاز شام پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خام تیل شام لے کر جا رہا تھا۔

ایران نے بھی جواب میں برطانیہ کا ایک بحری جہاز قبضے میں لے لیا تھا جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔

فریقین سخت بیانات کے علاوہ ایک دوسرے کو مذاکرات کی بھی دعوت دیتے رہے ہیں۔

چند روز قبل ایران کے صدر حسن روحانی کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اپنے متکبرانہ رویے پر نظرثانی کرے تو ہم بات چیت کے لیے ہمیشہ سے ہی تیار ہیں۔

انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ جارحیت اور ظلم بند کریں اور پابندیاں اٹھا کر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG