رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی پالیسیوں کے خلاف ایران کا پاکستان سے تعاون بڑھانے پر زور


پاکستانی مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شامخانی (فائل فوٹو)

شامخانی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی "مسلم ممالک بشمول پاکستان اور ایران کے لیے بددیانت، دوغلی اور تقسیم کی پالیسی" سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ چوکنا رہتے ہوئے اپنے تعاون کو فروغ دیا جائے۔

ایران نے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ نفاق پیدا کرنے کی امریکی پالیسی سے نمٹنے کے لیے آپس میں قریبی تعلقات استوار کریں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی 'پریس ٹی وی' کے مطابق یہ بات شوریٔ اعلیٰ امنیت ملی یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شامخانی نے اتوار کو تہران میں پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کے دوران کہی۔

شامخانی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی "مسلم ممالک بشمول پاکستان اور ایران کے لیے بددیانت، دوغلی اور تقسیم کی پالیسی" سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ چوکنا رہتے ہوئے اپنے تعاون کو فروغ دیا جائے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی طرف سے پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے پر امریکی حکام کی شدید تنقید کا سامنا کر رہا ہے جب کہ ایران سے متعلق بھی ٹرمپ انتظامیہ خاصا تلخ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

ملاقات کے دوران پاکستانی مشیر کا کہنا تھا کہ اسلامی ملکوں کو مسلمانوں کے درمیان نفاق پیدا کرنے کی غیر ملکی پالیسیوں سے نمٹنے کے لیے شعور اجاگر کرنا چاہیے۔

ان کے بقول پاکستان، ایران کے ساتھ سلامتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پریس ٹی وی کے مطابق شامخانی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ نئی قومی سلامتی کی نئی امریکی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔

ایرانی اور پاکستانی رہنماؤں کی یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب خاص طور پر پاکستان سے متعلق امریکی رویے کے تناظر میں امریکی ذرائع ابلاغ سمیت بعض دیگر حلقوں میں بھی یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی میں امریکہ کا قریبی اتحادی رہنے والا پاکستان دیگر بڑی طاقتوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے جو کہ خطے میں امریکہ کے مفاد کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوگا۔

تاہم امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی سنجیدہ کارروائیوں کی صورت میں اس کی معطل شدہ امداد بحال کر دی جائے گی۔

دو روز قبل ہی پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کا کوئی اتحاد نہیں کیونکہ ان کے بقول اتحادیوں کے ساتھ ایسا رویہ نہیں برتا جاتا جیسا امریکہ نے اپنایا ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG