رسائی کے لنکس

logo-print

یمن میں فضائی کارروائیاں بند، ایران کا متاثر کو فوری امداد بھجوانے پر زور


ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سعودی اقدام کو "مثبت" قرار دیتے ہوئے بات چیت اور نئی حکومت کی تشکیل پر زور دیا۔

ایران نے سعودی عرب کی طرف سے یمن میں فوجی آپریشن ختم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں فوری طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے علاوہ تنازع کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات شروع کیے جانے چاہیئں۔

سعودی عرب نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف تقریباً ایک ماہ سے جاری اپنی فضائی کارروائی ختم کر رہا ہے۔ ریاض کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جنگ سے تباہ حال اپنے پڑوسی ملک میں امن کے لیے سیاسی حل کی حمایت کرے گا۔

شیعہ حوثی باغیوں کا حامی ملک ایران مسلسل یہ کہتا آیا ہے کہ وہ یمن میں امن کی بحالی کے لیے سیاسی عمل کی حمایت کرے گا۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سعودی اقدام کو "مثبت" قرار دیتے ہوئے بات چیت اور نئی حکومت کی تشکیل پر زور دیا۔

"یمن میں مثبت پیش رفت کے بعد وہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد بھیجنی چاہیے، (تمام فریقین کی شمولیت سے) مذاکرات اور نئی حکومت کی تشکیل کی جانی چاہیے۔"

امریکہ اور خطے میں ایران کا روایتی حریت شیعہ اکثریت والے ملک ایران پر الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ وہ حوثیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ تہران ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب نے یمن میں فوجی آپریشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب سیاسی، سفارتی فوجی اقدامات کے ساتھ نئے "سیاسی عمل کا آغاز ہوگا جو یمن کو محفوظ مستقبل کی طرف لے جائے گا۔"

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ یمن میں ہونے والی لڑائی کے باعث ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے جب کہ 750 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG