رسائی کے لنکس

'امریکہ ایران جنگ نہیں ہوگی، پراکسی وار چلتی رہے گی'


تہران میں دو خواتین امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے القدس فورس کے جنرل قاسم سلیمانی کے پوسٹر کے پاس سے گزر رہی ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔
تہران میں دو خواتین امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے القدس فورس کے جنرل قاسم سلیمانی کے پوسٹر کے پاس سے گزر رہی ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

سفارتی اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے تنازع سے لاتعلق رہنے کے باوجود اس کشیدگی کا اثر پاکستان پر ہو گا اور معاشرے میں فرقہ ورانہ تقسیم بڑھ سکتی ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس خدشے سے آگاہ ہے، اس لیے فریقین کو کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نئی نہیں۔ لیکن، حال میں اس وقت تیزی سے اضافہ ہوا جب امریکہ نے عراقی دارالحکومت بغداد میں ایک حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا۔

ایران نے جواب میں عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسائے۔ اس کے بعد دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ لیکن، بیان بازی جاری رہی۔

سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاملے سے لاتعلق رہنا چاہتا ہے۔

ان کے بقول، "پاکستان کی روایتی پالیسی یہی ہے کہ مسلمان ممالک کے تنازع میں غیر جانب دار رہا جائے۔ ایران عراق جنگ میں یہی پالیسی تھی۔ ایران امریکہ کشیدگی میں ایک فریق سعودی عرب بھی ہے اس لیے پاکستان اس سے بچنا چاہتا ہے۔"

نجم الدین شیخ نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکہ ایران کشیدگی بڑھے گی۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ بھی جنگ نہیں چاہتے اور ایران بھی محتاط ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کسی انفرادی پالیسی پر گامزن نہیں تھے۔ ان کے بعد آنے والا جرنیل بھی اسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ اگر جنگ ہوئی تو چھوٹی نوعیت کی ہوگی ورنہ امکان یہی ہے کہ خطے میں پراکسی وار چلتی رہے گی۔

لمز یونیورسٹی کے پروفیسر رسول بخش رئیس کو خدشہ ہے کہ امریکہ ایران کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان میں فرقہ ورانہ تقسیم میں اضافہ ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کا شہری ہونے کے باوجود ایک طبقے کی وفاداریاں سعودی عرب کے ساتھ ہیں اور دوسرے طبقے کی ایران کے ساتھ۔

پروفیسر رئیس نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کا خطہ ایسا ہے جہاں غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی اندر اور باہر سے کی جاتی رہتی ہے۔ ایران عراق جنگ، افغان جنگ اور شام کی خانہ جنگی میں پاکستان سے جنگجو بھرتی کیے گئے۔ اس وقت کی حکومتیں دیکھتی رہیں۔ لیکن، خاموشی اختیار کی۔

سابق وزیر داخلہ جنرل معین الدین حیدر کہتے ہیں کہ ماضی کے برعکس اس بار حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی مختلف اور سخت ہے۔ انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ خطے میں ایک اور جنگ ہوئی تو پاکستان اس کے اثرات سے بچ نہیں سکے گا۔ اس لیے انھوں نے ایران، سعودی عرب اور امریکہ سے بات کی ہے۔ نہ صرف پیغام رسانی کی بلکہ انھیں اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ فریقین مکالمہ کریں اور جنگ کی طرف نہ جائیں۔

جنرل معین الدین حیدر نے کہا کہ ایران پہلے ہی عرب ملکوں کو دھمکی دے چکا ہے کہ جن ملکوں میں امریکی اڈے ہیں وہ بھی نشانے پر ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگ چھڑی تو اس کا دائرہ پھیل جائے گا۔ اسی لیے فریقین سرخ لکیر عبور نہیں کرنا چاہتے۔

XS
SM
MD
LG