رسائی کے لنکس

logo-print

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی توقع


ایران کے وزیرِ خارجہ اور جوہری پروگرام سے متعلق سرکردہ مصالحت کار جواد ظریف نے یو ٹیوب پر جاری کی گئی وڈیو میں کہا کہ معاہدے پر متفق ہونے کا ’’ہرممکن امکان‘‘ موجود ہے۔

ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے مصالحت کار بدھ کو جنیوا میں ملاقات کر رہے ہیں، جس کا مقصد دو ہفتے قبل ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھانا اور تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے پر اتفاق کرنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی پر مشتمل چھ ممالک کا یہ گروپ ایسا عبوری معاہدہ چاہتا ہے جس کے تحت ایران یورینیم کی افژودگی سے متعلق بعض سرگرمیاں روک دے اور معائنے کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر آمادگی ظاہر کرے، جب کہ اس کے بدلے ایران کے خلاف تعزیرات میں محدود نرمی کی جائے گی۔

اجلاس سے قبل طرفین نے معاہدے پر متفق ہونے کے بارے میں اُمید کا اظہار کیا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ اور جوہری پروگرام سے متعلق سرکردہ مصالحت کار جواد ظریف نے یو ٹیوب پر جاری کی گئی وڈیو میں کہا کہ معاہدے پر متفق ہونے کا ’’ہرممکن امکان‘‘ موجود ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دفتر کے مطابق مسٹر کیمرون اور ایران کے صدر حسن روحانی نے منگل کو ٹیلی فون پر گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا کہ رواں ماہ ہوئے گزشتہ مذاکرات میں ’’قابلِ ذکر پیش رفت‘‘ ہوئی تھی۔

ظریف نے ایران کا یہ موقف دہرایا کہ وہ یورینیم کی افژودگی کے اُس کے بقول اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا، مگر مذاکرات کے آغاز کے لیے اس شرط پر مزید اصرار نہیں کرے گا کہ مغربی طاقتیں اس حق کو عوامی سطح پر تسلیم کریں۔

دریں اثنا امریکہ کے ایک سینیئر قانون ساز نے منگل کو کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران کانگریس ایران کے خلاف کسی نئی اقتصادی پابندیوں پر رائے شماری نہیں کرے گی۔
XS
SM
MD
LG