رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی یونیورسٹیاں بیرونی دنیا سے روابط استوار کریں: صدر روحانی


ایران کے صدر نے قدامت پسند حلقوں کے ان تحفظات کو مسترد کر دیا کہ باہر کی دنیا کے ساتھ میل جول سے جاسوسی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے منگل کو ایرانی یونیورسٹیوں سے کہا ہے کہ وہ زیادہ تعداد میں غیر ملکی طلبا اور اساتذہ کو اپنے ہاں شامل کریں۔

انھوں نے قدامت پسند حلقوں کے ان تحفظات کو مسترد کر دیا کہ باہر کی دنیا کے ساتھ میل جول سے جاسوسی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تہران یونیورسٹی میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع صدر روحانی کا یہ بیان منقسم سیاسی قیادت کے ان قدامت پسند حلقوں کے لیے ایک نیا جواب ہے، جو بین الاقوامی میل جول کے پالیسوں کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں۔

صدر روحانی کا خطاب سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا،جس میں اُنھوں نے ایک نئی یونیورسٹی کے قیام پر زور دیا جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی میں ہو اور کہا کہ ایران کے تعلیمی شعبوں کو بین الاقوامی روابط سے بہت فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم باہر کی دنیا کے ساتھ رابطہ رکھیں گے، اگر ہمارے اساتذہ باہر جائیں گے اور ان کے پروفیسر یہاں آئیں گے تو شاید ان میں کوئی جاسوس بھی ہو، ایسے بہانے بنانے چھوڑ دیں!‘‘۔

تہران یونیورسٹی کے بین الاقومی اُمور کے شعبے میں ذریعہ تعلیم انگریزی میں ہے لیکن ایران میں ایسی کوئی یونیورسٹی موجود نہیں جہاں ذریعہ تعلیم مکمل طور پر انگریزی زبان میں ہو۔

صدر روحانی جنہوں نے سکاٹ لینڈ کی ایک یونیورسٹی سے ’پی ایچ ڈی‘ کی ڈگری حاصل کی تھی، نے ایران پر زور دیا کہ وہ دنیا سے صرف سیاست کے میدان میں ہی میل جول نا رکھے بلکہ اقتصادیات، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی روابط قائم کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے طالب علموں کو ایک ٹرم کے لیے باہر جانا چاہیئے۔ کم ازکم ہمارے ہاں ایک ایسی یونیورسٹی ہونی چاہئیے جہاں انگریزی ہی میں تعلیم دی جائے تاکہ غیر ملکی طلبا ہمارے ہاں آئیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG