رسائی کے لنکس

ایرانی نژاد امریکی شہری کی ایران کی جیل میں بھوک ہڑتال


رضا رابن شاہینی دائیں طرف (فائل فوٹو)

فاطمہ نے کہا کہ ان کی والدہ اور بہن نے رابن شاہینی سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے کہا لیکن اُس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، اطلاعات کے مطابق رضا شاہینی نے 15 فروری سے بھوک ہڑتال شروع کی تھی ۔

ایران میں گزشتہ سال جولائی سے زیر حراست ایرانی نژاد امریکی شخص کی بہن کا کہنا ہے کہ اپنی سزا کے خلاف اُس کے بھائی نے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے، جسے اب دو ہفتے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔

کیلیفورنیا کے سان ڈیاگو شہر میں واقع اپنے گھر سے فون پر وائس آف امریکہ کی فارسی سروس سے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ شاہینی نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے بھائی رضا رابن شاہینی کمزور ہو گئے ہیں۔

فاطمہ شاہینی نے کہا کہ انہیں اپنے بھائی کی صحت کی صورت حال کے بارے میں اپنی والدہ اور بہن سے معلوم ہوا ہے، جنہوں نے بدھ کو ایران کے شمالی شہر گرگان میں واقع جیل میں رضا شاہینی سے ملاقات کی تھی۔

فاطمہ نے کہا کہ ان کی والدہ اور بہن نے رابن شاہینی سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے کہا لیکن اُس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، اطلاعات کے مطابق رضا شاہینی نے 15 فروری سے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

فاطمہ کے بقول تین ہفتوں کے دوران پہلی بار اُن کی والدہ اور بہن کو رضا شاہینی سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

رضا رابن شاہینی نے گزشتہ اکتوبر میں جیل سے کئی امریکی ذرائع ابلاغ کو فون کر کے بتایا تھا کہ ایک ایرانی عدالت نے اسے18 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام نے جولائی 2016ء میں انہیں گرگان میں اُس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنی ماں اور خاندان کے دیگر افراد سے ملنے کے لیے امریکہ سے ایران آئے تھے۔

رضا رابن شاہینی ایران میں پیدا ہوئے اور 2000ء میں امریکہ منتقل ہو گئے، جہاں سان ڈیاگو یونیورسٹی سے مئی 2016ء میں فارغ التحصیل ہوئے تھے۔

شاہینی کی گرفتاری کے بعد ایرانی حکام نے کہا تھا کہ دوہری شہریت کے حامل ایک شخص کو "حریف ملک کے ساتھ ساز باز کرنے" سمیت دیگر الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

فاطمہ شاہینی نے کہا کہ ان کے بھائی کا فروری کے وسط سے کسی کے ساتھ فون پر رابطہ نہیں ہے۔ ان کے بقول تہران میں اُن کے بھائی کے وکیل کو بھی وہ تفصیلات نہیں بتائی گئی، جن کے تحت رضا شاہینی کو حراست میں لیا گیا۔

وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کی طرف سے رضا رابن شاہینی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکہ کے محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ راز داری کی وجوہات کی بنا پر مخصوص کیسوں میں امریکی کوششوں کی تفصیل فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

دوسری طرف امریکہ میں قائم، ایران میں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی مہم کے ایک گروپ نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کو بتایا کہ رابن شاہینی کو حراست میں رکھنا، اُسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت دہری شہریت والے ایرانیوں کو ایسی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG