رسائی کے لنکس

logo-print

’مدافعانِ حرم‘ سے متعلق ایرانی فلم ساز کے بیان پر لے دے


ستاون برس کی تہمینہ میلانی کے کلمات کو ’مدافعان حرم‘ کے خلاف ایک بھونڈا مذاق قرار دیا گیا ہے۔ ایران شام میں ہتھیاربند لڑاکوں کی تعیناتی کو ’مدافعان حرم‘ کا نام دیتا ہے

صاف گو، بے باک، بین الاقوامی سطح پر معروف فلم ساز اور سرگرم کارکن کی جانب سے ’انسٹاگرام‘ پر شائع ہونے والے ایک پوسٹ پر ایران میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے آیا ایران کی شام میں فوجی موجودگی جاری رہنی چاہیے۔

ستاون برس کی تہمینہ میلانی کے کلمات کو ’مدافعان حرم‘ کے خلاف ایک بھونڈا مذاق قرار دیا گیا ہے۔ ایران شام میں ہتھیاربند لڑاکوں کی تعیناتی کو ’مدافعان حرم‘ کا نام دیتا ہے۔

میلانی کو 2001ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور اُنھیں قید کی سزا ہوئی تھی۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ فنون لطیفہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے ’’رد انقلاب اور توہین مذہب‘‘ کی مرتکب ہوئی ہیں۔ ساتھی فلم سازوں کی مدد سے اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں اُنھیں دو ہفتے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

ابلاغ کے قدامت پسند اداروں اور سرکار سے قربت رکھنے والی ویب سائٹوں نے میلانی کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائی، جس میں اُن پر’’فنکار کا روپ دھار کر دشمن کے لیے جاسوسی کرنے‘‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔

ایران کے قدامت پسند اخبار ’کیہان‘ نے اُنھیں ’’سرحدوں کےاندر کارفرما دہشت گردوں کی مشیر‘‘ قرار دیا۔ آن لائن ویب سائٹ ’مشرق نیوز‘ نے، جس کے پاسداران انقلاب کے محافظ دستے کے ساتھ قریبی روابط ہیں، جو شام میں اسد حکومت کا دفاع کرنے والی کلیدی فوجی فورس ہے، میلانی کو ’’عبارت آرائی سے مانوس نفسیاتی مریض‘‘ قرار دیا ہے۔

حکومتِ ایران شام میں اپنی فوجوں کی موجودگی پر سامنے آنے والے عوامی رد عمل کے معاملے پر انتہائی حساس ہے۔

علی نجفی ایرانی فلموں کے ناقد ہیں، جو اسٹاکہوم میں جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’شام میں ایران کی مداخلت کے خلاف ہونے والے حالیہ احتجاج کے بعد، اس معاملے پر حکام انتہائی حساس ہوچکے ہیں‘‘۔

بقول اُن کے، ’’یہی خاص وجہ ہے کہ سماجی میڈیا پر چھپنے والی اِس پوسٹ کے خلاف خاصی سختی برتی جارہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’معاملے کی نزاکت کے پیش نظر، زیادہ تر فنکار اپنے آپ کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے؛ وہ نہیں چاہتے کہ اُنھیں قومی سلامتی کے مخالف قرار دیا جائے‘‘۔

جنوری کے آغاز پر ایران بھر میں مظاہرے ہوئے، جو عام استعمال کی اشیا کے نرخ میں اضافے پر احتجاج کی صورت میں شروع ہوئے، جب کہ اِن کا اختتام شام میں ایران کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر غیر متوقع اختلاف رائے کی صورت میں نمودار ہوا۔ برہم مظاہرین نے ’’شام چھوڑ دو۔ ہماری فکر کرو‘‘؛ جس سے مراد اسد حکومت کے لیے ایرانی حکومت کی حمایت کے خلاف برہمی کا اظہار تھا۔

شروع ہی سے، میلانی سماجی میڈیا پر جو پوسٹیں شائع کرتی ہیں اُن کا تعلق بنیادی طور پر حساس موضوعات سے رہتا ہے، جس میں مردوں کے معاشرے میں خواتین کی برابری کی جدوجہد، جسمانی طور پر ہراساں کیا جانا اور تحریک نسواں کو اجاگر کرنا شامل ہے؛ جن معاملوں پر اُن کے ساتھی فلم ساز بڑھ چڑھ کر اُن کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم، ناقد اُن کی جانب سے شام میں لڑائی کے بارے میں اُن کے بیانات پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

فارسی بلاگ کی دنیا میں ایک مختصر وڈیو کلپ بہت مشہور ہوئی ہے، جس میں نامور فلمی ستاروں، ڈائریکٹروں اور فلم سازوں کو ’مدافعانِ حرم‘ کی حمایت میں کلمات ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

محمد رضا گلزار ایران کے سوپر اسٹار ہیں۔ ایران میں اُن کا نام عزت کی نگاہ سے لیا جاتا ہے۔ ایک کلپ میں وہ کہتے ہیں کہ ’’شام میں خدمات بجا لاکر ہمارے سپاہی اپنا فرض ادا کر رہے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG