رسائی کے لنکس

روس ہمارے فوجی اڈے استعمال کر سکتا ہے: ایرانی وزیر خارجہ


جواد ظریف (فائل فوٹو)

گزشتہ سال روس نے ایران کے ایک فضائی اڈے کو بھی استعمال کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ شام میں عسکریت پسندوں پر حملوں کے لیے روس ان کے فضائی اڈے استعمال کر سکتا ہے۔

یہ بات انھوں نے منگل کو بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" سے گفتگو میں کہی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اڈوں کا یہ استعمال "مختلف کارروائیوں سے متعلق بوقت ضرورت ہی کیا جا سکے گا۔"

روس اور ایران، شام کے صدر بشار الاسد کے دو انتہائی قریبی اتحادی ہیں جو کہ ملک میں جاری خانہ جنگی میں ان کی بھرپور حمایت کرتے آ رہے ہیں۔

روس، شام میں فضائی کارروائیاں کرتا آرہا ہے اور گزشتہ سال اس نے ایران کے ایک فضائی اڈے کو بھی استعمال کیا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلا موقع تھا کہ جب کسی دوسرے ملک نے ایران کے اندر اس کے فضائی اڈے کو استعمال کیا ہو۔

لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تر برقرار نہ رہا کیونکہ بعض ایرانی قانون سازوں نے اس اقدام کو ملکی آئین کی اس شق کی خلاف ورزی قرار دیا جو کسی غیر ملکی قوت کو ایرانی اڈے استعمال کرنے سے روکتی ہے۔

اُس وقت کے ایرانی وزیردفاع نے اڈے کے استعمال کے انتظامات کی "تشہیر" کرنے پر ماسکو کی سرزنش بھی کی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کہتے ہیں کہ "روس کا (ایران میں) کوئی فوجی اڈہ نہیں ہے، ہمارے درمیان اچھا تعاون ہے اور معاملات کی بنیاد پر جب روس کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ضرورت ہو تو وہ ایرانی تنصیبات استعمال کر سکتا ہے۔ ہم اس پر فیصلہ کریں گے۔"

ظریف اپنے ملک کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ ان دنوں روس کے دورے پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں علاقائی امور بشمول شام کی صورتحال سمیت مختلف معامات پر بات چیت کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG