رسائی کے لنکس

ایرانی وزیرخارجہ پاکستانی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے


ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف (فائل فوٹو)

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اتوار کو سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور عالمی اُمور پر پاکستان کے سول اور عسکری عہدیداروں سے بات چیت کریں گے۔

ایکسرکاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ ایک 30 رکنی وفد بھی پاکستان آ رہا ہے جس میں ایران کے کاروباری اور تجارتی شعبوں کے سرکردہ افراد شامل ہیں۔

اپنے دورہ پاکستا ن کے دوران جواد ظریف صدر پاکستان ممنون حسین ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اعلیٰ سول اور عسکری قیادت سے ملاقا ت کریں گے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد اور کراچی میں منعقد ہونے والے دو مختلف اجلاسوں سے بھی خطاب کریں گے جس میں پاکستانی اورایرانی تجارتی برادری کے افراد شرکت کریں گے۔

ایران پاکستان کا ایک قریبی ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، سماجی اور مذہبی تعلقات ہونے کے باوجود باہمی تجارت کا حجم بہت کم ہے اور غیرجانبدار حلقوں کے نزدیک ا س کی وجہ ماضی میں ایران پرعائد تجارتی پابندیاں ہیں۔

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار اور سابق لیفٹنینٹ جنرل امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

"ایران کی پاکستان میں اقتصادی دلچسپی بڑھنا بہت ضروری تھا اچھے تعلقات کے لیے۔ ہم بار ہا ایران کو یہ تو یقین دہانی کرواتے رہے ہیں کہ ہمارے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہیں وہ آپ کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ بڑا اہم ہے کہ ایران کے یہاں پاکستان میں کاروباری مفادات ہوں۔"

ماضی میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کی باہمی تجارت بھی متاثر ہوئی تھی تاہم اقتصادی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران پر یہ تعزیرات اٹھائے جانے کے بعد پاکستان بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایران کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG