رسائی کے لنکس

logo-print

شاھپور بختیار کا قاتل فرانس سے ملک بدر


1991 شاہ ایران کے دور میں آخری وزیرِاعظم کو ہلاک کرنے کا ایرانی مجرم، جو فرانس میں عمر قید کاٹ رہا تھا اب رہا ہو کرگھر واپس پہنچنے کی تیاری کر رہا ہے۔ عدالت نے بدھ کے روز علی وکیلی راد کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔

علی وکیلی راد کو 1994 میں شاھپور بختیار کوپیرس کے نزدیک قتل کرنے کے جرم میں سزا ہوئی تھی۔ پچھلے سال وہ قولی رہائی کا اہل ہو گیا تھا۔ منگل کے روز ایک فرانسیسی عدالت نے فیصلہ کیا کہ اسے یہ مشروط رہائی دے دی جائے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ وکیلی راد ان تین میں ایک تھا جنھہوں نے شاھپور بختیار اور ان کی سیکرٹری کو قتل کیا تھا۔
یاد رہے کہ کوتِلد رِیس جاسوسی کے الزام میں دس ماہ حراست میں رہ کر ابھی پرسوں ہی تہران سے پیرس پہنچی تھیں کہ وکیل راد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
اور اس واقعے کو ایک ہفتے ہوا ہے جب فرانسیسی عدالت نے امریکہ کی یہ درخواست مسترد کر دی تھی کہ ایرانی انجنئیر مجید کاکا وند کو امریکہ کے حوالے کیا جائے جس پر خفیہ ٹیکنالوجی ایران کو منتقل کرنے کا الزام تھا۔ ایران کے مطابق کلوتِلد ریس کا معاملہ وکیلی راد اور مجید کاکا وند کے معاملات سے منسلک ہے۔
فرانس نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اس نے کوتِلد ریس کی رہائی کے لیے کوئی سودے بازی کی ہے۔

شاھپور بختیار، شاہ ایران رضا پہلوی کا پرانا مخالف تھا لیکن شاہ نے اسے 1979 میں وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔ یہ شاہ کی جانب سے اپنی شہنشاہیت کو بچانے کا آخری حربہ تھا۔ تاہم اسلامی انقلاب کے بعد بختیار نے ایران سے فرار ہو کر فرانس کا رخ کیا اور قتل ہونے تک وہیں قیام کیا۔

باور کیا جاتا تھا کہ یہ قتل آیت اللہ روح اللہ خمینی کے حامیوں نے کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG