رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی تیل کی درآمد گھٹانے کی امریکی کوششیں


ایرانی تیل کی درآمد گھٹانے کی امریکی کوششیں

امریکہ ایرانی تیل کے خریدار ممالک کو ایران سے تیل کی درآمد محدود کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ ایران کے مرکزی بینک پر عائد اقتصادی پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔

امریکہ ایران سے تیل کی درآمدات معطل کرنے کے لیے جن ممالک پردبائو ڈال رہا ہے ان میں جنوبی کوریا اور جاپان بھی شامل ہیں۔

جنوبی کوریا کے اعلیٰ سطحی حکومتی عہدیداران کا ایک وفد امریکی حکام سے مذاکرات کے لیے منگل کو واشنگٹن پہنچ رہا ہے ۔ حکام کے مطابق مذاکرات میں ایران سے درآمدات محدود کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جنوبی کوریا تیل کی کل درآمدات کا 10 فی صد ایران سے حاصل کرتا ہے۔

ایرانی تیل کی درآمدات سے متعلق بیشتر مالی معاملات ایران کا مرکزی بینک انجام دیتا ہے اور امریکہ نے بینک کے ساتھ لین دین کرنے والے معاشی اداروں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

تاہم ایران سے تیل کی درآمدات محدود کرنے والے ممالک کے ادارے ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔

قبل ازیں پیر کو جاپان نے کہا تھا کہ ایران سے تیل کی درآمدات محدود کرنے کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا ہے تاہم، جاپانی حکام کے بقول، اس ضمن میں بات چیت جاری ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایران سے تیل کی درآمدات پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے باعث پہلے سے ابتری کا شکار معیشتوں کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔

لیکن تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک بشمول سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنی پیداوار میں اضافہ کردیں گے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جاسکے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یورپی یونین نے بھی رکن ممالک کے لیے ایران سے تیل کی درآمدپر پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔

ایران نے پابندیوں پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے فرانس اور برطانیہ کو تیل کی فراہمی معطل کردی ہے اور یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کو بھی تیل کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG