رسائی کے لنکس

ایران کے راہبر اعلیٰ کی صدر روحانی کے تعلیمی منصوبہ پر تنقید


راہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خا منہ ای (فائل فوٹو)

ایران کے راہبر اعلیٰ نے اتوار کو صدر روحانی کی حکومت پر " مغرب کے زیر اثر" اقوام متحدہ کے تعلیمی منصوبے کو فروغ دینے پر تنقید کی ہے جس کے بارے میں ان کے قدامت پسند اتحادیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیان نو مئی کو ہونے والے صدارتی اںتخاب سے پہلے سامنے آیا ہے جس میں صدر روحانی دوبار منتخب ہونا چاہتے ہیں۔

راہبر اعلیٰ کی ویب سائیٹ کے مطابق خامنہ ای نے تعلیمی ماہرین کے ایک اجتماع کو بتایا کہ "اس ملک میں (تعلیم کی) بنیاد اسلام اور قرآن ہے۔ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں ناقص، بدعنوان، تباہ کن مغربی طرزعمل کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی اجازت دی جائے گی۔"

خامنہ ای نے اقوام متحدہ کی تنظیم برائے سائنس ثقافت اور تعلیم 'یونیسکو' کی طرف سے تجویز کردہ تعلیم 2030 کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اسلامی جمہوریہ (ایران) میں ایسی دستاویز کو قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔"

خامنہ ای نے یونیسکو کے منصوبے کی ان کی طرف سے کی جانے مخالفت کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے تاہم ایران میں سخت گیر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اس (منصوبہ کے تحت) صنفی مساوت کو فروغ دینا اسلام کے خلاف ہے۔

خامنہ ای جو اکثر ایران کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے کے لیے " ثقافتی جنگ" سے متنبہ کر چکے ہیں نے کہا کہ "کس طرح ایک بین الاقوامی ادارہ جو بڑی طاقتوں کے زیر اثر ہے اپنے آپ کو ایسے ملکوں کے لیے فرائض کو متعین کرنے کی اجازت دے سکتا ہے جو مختلف تہذیب و تمدن کے حامل ہیں۔"

ایران میں حکومت کی پالسی پر حتمی رائے کا اختیار خامنہ ای کو ہی حاصل ہے اور حالیہ ہفتوں میں انہوں نے خود کو روحانی سے دور کر لیا ہے۔

تاہم انہوں نے روحانی کے سخت گیر حریفوں بشمول بااثر مبلغ ابراہیم ریئسی اور تہران کے میئر محمد باقر قلباف کے لیے بھی کسی طرح کی حمایت کا اظہار نہیں کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق اپریل 2015 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے متخلف سطحوں پر تعلیم کے لیے داخلہ کی ہمہ گیر سطح پر صنفی برابری حاصل کر لی ہے۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2012 میں صنف سے متلعق وضع کی گئی پالیسیوں کے تحت یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG