رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی خواتین کو 40 سال بعد اسٹیڈیم میں فٹ بال میچ دیکھنے کی اجازت


ایرانی خواتین فٹ بال پرستاروں کو کئی دہائیوں بعد جمعرات سے اسٹیڈیم جا کر فٹ بال میچ دیکھنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق جمعرات کو تہران کے آزادی اسٹیڈیم میں 2022 کا ورلڈ کپ کوالیفائر میچ ایران اور کمبوڈیا کے درمیان کھیلا جارہا ہے۔ جسے خواتین بھی اسٹیڈیم میں جا کر دیکھ سکیں گی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق میچ کی ٹکٹیں ایک گھنٹے کے دوران ہی فروخت ہوگئیں تاہم ٹکٹوں کی مزید طلب کو دیکھتے ہوئے نشستوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

وزارت کھیل کے حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیم میں ایک لاکھ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ ان ایک لاکھ افراد میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل ہوں گی۔

ایک سینئر صحافی راہا پوربخش نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اب تک 3500 خواتین نے ٹکٹیں حاصل کر لی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت مل گئی ہے کیوں کہ پچھلے چالیس سال سے تو خواتین ٹی وی پر ہی میچ دیکھتی آئی ہیں۔"

خیال رہے کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ایران کو تنبیہ کی تھی کہ وہ خواتین کو اسٹیڈیم جا کر میچ دیکھنے کی اجازت دے ورنہ اس کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔ فیفا نے یہ تنبیہ اس وقت کی تھی جب رواں سال ایک خاتون فٹ بال پرستار نے مردانہ لباس زیب تن کر کے گراؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تاہم اسے پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

سحر خداباری نامی خاتون نے بعدازاں عدالت کے احاطے میں خود سوزی کر لی تھی جس پر ایران کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان کی موت پر ایرانی سوشل میڈیا میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے سحر سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کو اسٹیڈیم میں جاکر میچ دیکھنے کی اجازت دیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران میں پچھلے چالیس سال سے خواتین کے اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے پر پابندی عائد ہے۔ ایرانی مذہبی حلقوں کا اعتراض ہے کہ کھلاڑی مختصر لباس پہنتے ہیں جو نیم عریانی میں شمار ہوتا ہے۔ لہذا خواتین کو ایسے مردانہ ماحول میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ایران نے گزشتہ ماہ یقین دہانی کرائی تھی کہ خواتین کو جلد فٹ بال میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی جس پر جمعرات سے عمل درآمد کا اعلان کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG