رسائی کے لنکس

چینی مال بردار جہاز سے ٹکرانے والے ایرانی آئل ٹینکر میں دھماکے کا خدشہ


چینی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکر کا 32 رکنی عملہ 30 ایرانی اور دو بنگلہ دیشی ملاحوں پر مشتمل ہے جو حادثے کے بعد سے لاپتا ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ چینی مال بردار جہاز سے ٹکرا کر آگ پکڑنے والا ایرانی آئل ٹینکر کسی بھی وقت دھماکے سے پھٹ کر غرق ہو سکتا ہے۔

ایران کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی کا تیل سے لدا ہوا یہ آئل ٹینکر چین کے ایک مال بردار جہاز سے ٹکرا گیا تھا اور اُس میں آگ بھڑک اُٹھی تھی۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد سے ایرانی جہاز کے لاپتا 32 ملاحوں کا اب تک پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

آگ کے شعلوں نے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اُس سے کالے دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں۔ ایران کے پورٹس اینڈ میری ٹائم ادارے کے سربراہ محمد رستاد نے بتایا ہے کہ خراب موسم اور آگ کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اپنے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

چین کی ٹرانسپورٹیشن کی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ شنگھائی سے 160 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ینگزے دریا کے دہانے کے قریب پیش آیا۔ یہ آئل ٹینکر پاناما میں رجسٹرڈ تھا اور یہ ایران سے 136,000 ٹن خام تیل لے کر جنوبی کوریا جا رہا تھا۔

یہ تیل تقریباً 10,00,000 بیرل کے برابر تھا جس کی مالیت عالمی منڈی میں 6 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھی۔

چینی وزارت کا کہنا ہے کہ سانچی نامی یہ ایرانی جہاز جل رہا ہے اور اس میں سے تیل رس رہا ہے۔ چینی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ اُس نے امدادی کارروائیوں کے لیے چار امدادی جہاز اور صفائی کرنے والی تین کشتیاں موقع پر روانہ کر دی ہیں۔ جنوبی کوریا نے بھی ایک امدادی جہاز مدد کے لیے بھجوا دیا ہے۔

چینی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ اس آئل ٹینکر کا 32 رکنی عملہ 30 ایرانی اور دو بنگلہ دیشی ملاحوں پر مشتمل ہے جو حادثے کے بعد سے لاپتا ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG