رسائی کے لنکس

logo-print

عراقی نائب صدر پر دہشت گردی کا الزام


عراقی نائب صدر پر دہشت گردی کا الزام

عراق کے سنی نائب صدر طارق الہاشمی نے ان الزمات کی تردید کی ہے کہ سرکاری عہدے داروں کو ہلاک کرنے کے ایک منصوبے کے پیچھے ان کا بھی ہاتھ تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ شیعہ اکثریتی حکومت کی جانب سے ان پر لگائے جانے والے الزامات کے مقاصد سیاسی ہیں۔

ہاشمی کا کہنا ہےوہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن صرف مقدمہ کی شمالی کردستان کے علاقے میں منتقل کی صورت میں۔

وہ منگل کے روز کردستان میں نامہ نگاروں سے گفتگو کررہے تھے ۔ جب کہ ایک روز قبل مرکزی حکومت نے دہشت گردی کے الزامات کے تحت ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ہاشمی پر لگائے جانے والے الزامات کی بنیاد ان کے تین باڈی گارڈوں کے اعترافی بیانات ہیں، جن کا کہناہے کہ انہوں نے عراقی حکومت اور سیکیورٹی عہدے داروں کو نشانہ بنانے کے لیے بم نصب کیے تھے۔

ہاشمی کے ایک ساتھی نے یہ اقرار کیا ہے کہ تینوں افراد نائب صدر کے لیے کام کرتے تھے ، لیکن انہوں نے دہشت گردی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

پچھلے ہفتے وزیر اعظم نوری المالکی نے پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ وہ ایک اور سنی راہنما نائب وزیر وزیر اعظم صلح المطلق کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دیں۔ جب کہ وائس آف امریکہ کی کرد سروس سے اپنے انٹرویو میں نائب وزیر اعظم مطلعق نے مسٹر مالکی کو ایک ڈکٹیٹر قرار دیتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عراق کے لیے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔

XS
SM
MD
LG