رسائی کے لنکس

logo-print

موصل کی بازیابی کی کارروائی، ہزاروں افراد داعش کے چنگل سے رہا


اگر کسی کی بیوی نے چہرے پر نقاب نہیں ڈھانپا ہوا، تو اُن پر ہرجانہ لاگو ہوتا ہے یا اُنھیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔ ادھر مردوں کو جرمانہ دینا پڑتا ہے یا پھر درے لگتے ہیں اگر اُن کی داڑھی خاصی حد تک لمبی نہیں ہے

محض چند ہی روز قبل، امریکی جیٹ طیاروں کی گرج برس اور بمباری کے دوران، عارف نے اپنے بچے اٹھائے اور رشتہ داروں کے ہمراہ ننگے پاؤں اپنے گاؤں سے بھاگ نکلے۔

بقول اُن کے، ’’ہم 20 سے 25 کلومیٹر تک پیدل چلے کر یہاں پہنچے، ہم ریگستان اور وادیوں میں بھٹکتے پھرے، اور ہم اُن کھیتوں سے گزرے جہاں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں۔‘‘

ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصے تک داعش کے شدت پسند گروپ کے زیر کنٹرول خطے میں رہنے کے بعد، عارف اور اُن کا اہل خانہ جان چھڑا پایا۔

وہ اور اُن جیسے تقریباً 6000 لوگ اب کردوں کے زیر کنٹرول علاقے میں واقع ایک خیمے میں مقیم ہیں، جو داعش سے دور ہے، اور ایسے میں عراقی فوج نے موصل کے جنوب میں واقع علاقے پر دوبارہ قبضے کے حصول کی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

ایک ہی دِن میں پانچ مختلف افراد سے انٹرویو کیا گیا، جن میں سے کچھ چھڑے تھے، چند والدین تھے ،جب کہ کچھ نوجوان لڑکے تھے، جس سے اندازہ ہوا کہ داعش کے زیر تسلط علاقے میں رہنے کا کیا مطلب ہے۔

زیادہ تر نے اپنے مکمل نام ظاہر نہیں کیے، جس کا سبب دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے ڈر خوف ہے کہ اُن رشتہ داروں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔

اگر کسی کی بیوی نے چہرے پرنقاب نہیں ڈھانپا ہوا، تو اُن پر ہرجانہ لاگو ہوتا ہے یا اُنھیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔ ادھر مردوں کو جرمانہ دینا پڑتا ہے یا پھر درے لگتے ہیں اگر اُن کی داڑھی خاصی حد تک لمبی نہیں ہے۔

سگریٹ پینے والے لوگوں کو ڈانٹ پلائی جاتی ہے۔ اسکول کے بچوں کو گولیاں چلانا سکھایا جاتا ہے۔

وہ خود بھی عراقی فوج کے سابق فوجی ہیں۔ عارف اُن متعدد سُنی افراد میں سے ایک ہیں جو اپنے دیہات ہی میں رہے جب سنہ 2014 میں داعش کے شدت پسند گروہ نے علاقے پر تسلط حاصل کیا، جو زیادہ تر سنیوں پر مشتمل ہے۔

اور کئی ایک لوگوں کی طرح جو بچتے بچاتے اس خیمے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، عارف نے اُس صورت حال زندگی کا ذکر کیا جو ظلم میں بدل گئی اور پھر ناقابل برداشت بن گئی تھی۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے، جن کی اجرت کم یا خطرے سے خالی نہ تھی۔ لوگوں کے پاس زندگی گزارنے کے لیے درکار رقوم نہیں ہوتی تھیں۔

مالی حالت نازک اور مایوسی کا عالم طاری رہتا، ایسے میں داعش کے ارکان پیسے بٹورنے کے حربے استعمال کیا کرتے تھے، جن میں سگریٹ بیچنے سے لے کر انسانوں کی اسمگلنگ شامل تھی۔

جو بھی شخص عراقی حکومت سے منسلک رہا ہو، جیسا کہ سابق پولیس، اُسے دولت اسلامیہ کو پشیمانی کے اظہار کے طور پر 2000 ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑتا یا پھر قتل کی دھکمی منڈلاتی رہتی۔ جو لوگ جرمانہ ادا نہیں کر پاتے وہ گھروں میں چھپے رہتے تھے۔

داعش لوگوں کو مجبور کیا کرتی تھی کہ انسانی اسمگلنگ میں تعاون کیا جائے، جس کے لیے 300 سے 2000 ڈالر کی ادائگی کی پیش کش کی جاتی۔

احمد کے بقول، ’’یہ دوہرا ہتھیار ہے‘‘۔

وہ اُن 20 افراد میں شامل ہیں جو اپنی کہانی سنانے کے لیے بے تاب ہیں۔ لیکن، وہ اپنے مکمل نام ظاہر کرنے سے گریزاں ہیں۔

بقول اُن کے، ’’داعش کے زیادہ تر ارکان کو درماہ 60000 دینار ملتے ہیں، جن کی ڈالر میں مالیت 50 ڈالر بنتی ہے، جو بہت تھوڑی ہے؛ اس لیے وہ ایسے حربے (اسمگلنگ) اختیار کرکے اضافی رقوم کا بندوبست کرتے ہیں‘‘۔ یا پھر جب علاقے میں داعش کو پیسوں کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ مل کر رقوم میں اضافے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے لیے وہ پکڑے ہوئے کچھ مغویوں کو رہا کردیتے ہیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG