رسائی کے لنکس

logo-print

بصرہ میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری دفاتر نذر آتش کر دیے


بصرہ میں سرکاری عمارتوں سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ 6 ستبمر 2018

عراق کے تیل پیدا کرنے والے جنوبی شہر بصرہ میں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی پر تشدد مظاہرے ہوئے اور مشتعل لوگوں نے سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی۔

مظاہرین شہر کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مرمت نہ ہونے پر اپنی برہمی کا اظہار کر رہے تھے۔

پیر کے روز مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں 8 مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کے 10 اہل کاروں کے بھی زخمی ہو نے کی اطلاعات ہیں جنہیں اسپتال ذرائع کے مطابق دستی بموں سے زخم آئے ہیں۔

جمعرات کو مظاہرین نے صوبائی حکومت کی کئی عمارتوں اور مقامی حکومت کے ہیڈکوارٹرز کو آگ لگا دی اور شہر کی مرکزی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

مظاہرین نے سرکاری ٹیلی وژن اسٹیشن عراقیہ کو بھی نذر آتش کر دیا اور حکمران جماعت دعویٰ پارٹی کے ہیڈکوارٹرز کو بھی جلا ڈالا۔

مظاہرین نے عراق کی طاقت ور شیعہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے دفتروں کو بھی آگ لگائی اور بصرہ سے تقریباً 60 میل شمال میں حکما موومنٹ کے مرکز پر بھی دھاوا بولا۔

مقامی پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی عمارتیں شعلوں کی لپیٹ میں ہیں۔ مقامی عہدے داروں نے تشدد پر قابو پانے کے لیے شہر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG