رسائی کے لنکس

logo-print

عراق جنگ ایک درست فیصلہ تھا: گورڈن براؤن


برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی طرح، موجودہ وزیر اعظم گورڈن براؤن بھی، اپنے عوام کی بڑے پیمانے کی مخالفت کے باوجود ،یہ سمجھتے ہیں کہ 2003ء میں عراق پر حملہ ایک صحیح فیصلہ تھا۔ لیکن انہیں وہاں انسانی جانوں کے نقصان اور غلطیوں پر افسوس بھی ہے۔ وزیر اعظم براؤن نے حال ہی میں ایک پبلک انکوئری کمیشن کے سامنے عراق جنگ میں برطانیہ کے کردار اور اس کے نتائج پر چار گھنٹے تک بات کی۔

عراق پر حملے کا فیصلہ ، فوجیوں کا رویہ اور نتائج، کمیشن کے سامنے اس بارے میں بات کرنے کی اب باری گورڈن براؤن کی تھی۔ جنہوں نے جنگ کے لیے اپنی تائید میں کوئی شبے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کرنا ایک انتہائی پر خطر اور حساس فیصلہ ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے صحیح وجوہات کی بنیاد پر درست فیصلہ کیا۔

گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ انکے نزدیک جنگ کی اصل وجوہات اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنے سے صدام حسین کا انکار اور عالمی برادری کے مطالبات تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد ، اور اس کیس میں ، جارح ریاستیں عالمی برادری کے قائم کردہ ضوابط کی پابندی سے انکار کرتے رہیں تو عالمی برادری کے قوانین کام نہیں کرسکتے۔

عراق جنگ کے آغاز پر گورڈن براؤن وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی کابینہ میں محکمہ خزانہ کے سربراہ تھے۔ انکے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنگی آلات کے لیے مناسب فنڈز فراہم نہیں کے۔جبکہ مسٹر براؤن کہتے ہیں کہ ہم نے ہر موقع پر وزیر اعظم اور کابینہ پر واضح کر دیاتھا کہ ملٹری کے تمام فیصلوں کو سپورٹ کیا جائیگا۔اور جو کچھ بھی ضروری ہوگا اس میں مالی رکاوٹیں نہیں ڈالی جائیں گی۔

برطانوی وزیر اعظم کہتے ہیں کہ برطانیہ نے عراق میں ساڑھے چار ہزار فوجی بھیجے تھے جن میں سے 179جنگ کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔ اپنی گواہی میں گورڈن براؤن نے سویلین اور فوجیوں کی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے عراق میں جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے ناقص پلاننگ پر بھی افسوس کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اسکے لیے مناسب پلاننگ کرنا ہوگی۔ لیکن ایمان داری کی بات یہ ہے کہ ہم امریکہ کو اس بات پر قائل نہیں کرسکے کہ اس معاملے کو ترجیح دی جائے۔

گورڈن براؤن جون 2007ء میں وزیر اعظم بنے اور انکے دور میں ہی برطانوی فوج نے عراق چھوڑا۔ لیکن تقریبا دس ہزار برطانوی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ عراق کی جنگ سے انہوں نے کئی سبق سیکھے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم ان جانتے ہیں کہ صرف طاقت کے استعمال سے امن قائم نہیں کہا جاسکتا ۔ اس کے لیے ہمیں عراق کے یا کسی بھی اور ملک کے عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ہمیں انہیں کسی نہ کسی موقع پر سیاسی قوت حاصل کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ ہمیں سیکیورٹی فورسز کومضبوط بنانے اور معاشی ترقی کی منصوبہ بندی پربھی توجہ دینی چاہیے۔

برطانیہ کی عراق جنگ میں شمولیت برطانوی عوام میں انتہائی غیر مقبول تھی اور ابھی بھی ایک شدید مسئلہ ہے۔ سابق وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے اسی کمیشن کے سامنے جنوری میں گواہی دیتے ہوئے عراق جنگ کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ اس پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG