رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: علاوی کی حزبِ مخالف کو صلح کی پیش کش


علاوی کے العراقیہ اتحاد نے موجودہ وزیرِ اعظم نوری المالکی کے اتحاد سے صرف دو نشستیں زیادہ حاصل کی ہیں

عراق کے سابق وزیر اعظم ایاد علاوی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی متحدہ حکومت قائم کی جا سکے گی۔

جناب علاوی نے بغداد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دروازے تمام سیاسی دھڑوں کے لیے کھلے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نئی حکومت پڑوسی ملکوں کے ساتھ جس قدر جلد ممکن ہو تعلقات مضبوط بنائے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے استحکام کا انحصار علاقےکے استحکام پر ہے۔

جمعے کے روز انتخابی عہدے داروں نے اعلان کیا تھا کہ علاوی کے سیکولر اتحاد نے سات مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔

سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی وجہ سے ایاد علاوی کو اگلی عراقی حکومت کی تشکیل کی کوشش کے لیے 30 دن دیےجائیں گے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہو گئے تو صدر جلال طالبانی اس کام کےلیے کسی اور سیاسی دھڑے کے راہنما کو چنیں گے۔

تاہم موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وہ جمعے کے دن کیے جانے والے اس اعلان کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں ان کے شیعہ اتحاد نے 89 نشستیں جیتی تھیں۔ ایاد علاوی کے العراقیہ اتحاد نے عراق کی 325 رکنی پارلیمنٹ میں 91 نشستیں حاصل کی ہیں۔

مسٹر مالکی نے انتخابات کے نتائج کی مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ووٹوں کی دوبارہ سے دستی گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن عراق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ایڈ میلکرٹ نے کہا ہے کہ سات مارچ کو ہونے والے انتخابات منصفانہ تھے۔ انہوں نے تمام جماعتوں سے نتائج قبول کرنے کی درخواست کی ہے۔

XS
SM
MD
LG