رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: صالح المطلق کو انتخابات سے روکنے کے خلاف سنی جماعتوں کا احتجاج



عراق کے ممتاز سنی عرب سیاسی راہنماؤں کا ایک گروپ عراقی پارلیمانی کمیٹی کے اس ابتدائی فیصلے پر احتجاج کررہا ہے جس میں سنی راہنما صالح المطلق کو مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصے لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ایک درجن سے زیادہ سیاسی پارٹیاں مبینہ طورپر سابق صدر صدام حسین کی بعث پارٹی کے ساتھ روابط کے باعث نااہل قراردی جاسکتی ہیں۔

عراق میں مارچ کے پارلیمانی انتخابات سے قبل سنی عربوں اور شیعوں کے درمیان سیاسی کشمکش میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ پارلیمنٹ کی احتساب اور انصاف کی کمیٹی کی جانب سے سنی سیاست دان صالح المطلق پر انتخاب میں حصہ لینے سے پابندی کے فیصلے سے ہفتوں کی وہ کوشش متاثر ہوسکتی ہے جس کے تحت تمام پارٹیوں کی انتخاب میں شرکت کو یقینی بنایا جارہا تھا۔

ہفتے کے روز ایک اعلیٰ اتحاد نے جس میں اکثریت عراق کے سنی سیاسی راہنماؤں کی ہے، کمیٹی کے فیصلے کی مذمت کی۔ اتحاد کے ترجمان حیدر الملا نے زور دیا کہ یہ فیصلہ قانونی طورپر فسخ ہوچکاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے راہنما یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اس کمیٹی کی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کرتے اور ہم اس کمیٹی سے تعاون نہیں کریں گے اور یہ کہ ہم اس کی بھرپور توثیق کرتے ہیں کہ عراقی عوام کے لیے واحد متبادل جمہوریت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صالح المطلق کو، کالعدم بعث پارٹی کے ساتھ مبینہ روابط رکھنے والی عراقی سیاسی جماعتوں کو مارچ کے الیکشن سے باہر رکھنے کا یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔

کمیٹی کے چیئر مین فلاح شانسل ایران کے حامی دینی راہنما مقتدہ الصدر کے اتحادی ہیں ، جن کے بارے میں سیاسی راہنماؤں کا خیال ہے کہ انہوں نے ایران کی اس خواہش کے سامنے سر جھکایا ہے کہ صالح المطلق کو نااہل قرار دیا جائے اور یہ کہ یہ فیصلہ جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متکی کے بغداد کے دورے کے بعد کیا گیا۔

شیعہ نائب صدر عادل عبدالمہدی نے صورت حال کو اعتدال پر لانے کے لیے آیت اللہ علی سیستانی سے نجف میں ان کے گھر پر ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا کہ کیونکہ ابھی تک حتمی طورپر کوئی فیصلہ نہیں ہوا اس لیے کسی کو اتنے جوش میں نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ابھی یہ معاملہ زیر غور ہے اور کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا ہے اس لیے صالح المطلق کے لیے اس بارے میں کوئی موقف اختیار کرنا غلطی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی اس معاملے پر اس وقت تک رائے نہیں دینی چاہیے جب تک کہ اس کی تفصیلات سامنے نہ آجائیں کہ کون فیصلہ کررہا ہے کس کمیٹی کافیصلہ ہے، عدالتوں کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کی قانونی حیثیت کیا ہے۔
مسٹر مطلق سمیت سنی راہنماؤں کو شکایت ہے کہ مطلق کو سیاسی عمل سے خارج کرنے کی وجہ ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی مقبولیت ہے اور اعتدال پسند سابق وزیر اعظم ایاد علاوی کے ساتھ ان کا اتحاد ، ان کے مطابق یہ اتحاد وزیر اعظم نوری المالکی کے قیادت کے شیعہ اتحاد کو خوف میں مبتلاکررہاہے۔

XS
SM
MD
LG