رسائی کے لنکس

logo-print

دولت اسلامیہ نے سنی قبیلے کے 300 افراد کو قتل کر دیا: عراق


وزیراعظم حیدر العابدی نے ان ہلاکتوں کے رد عمل میں ہت کے قصبے کے قریب انتہا پسندوں کے ٹھکانوں کو فضائیہ کی مدد سے نشانے بنانے کا حکم دیا ہے۔

عراق کا کہنا ہے کہ سنی انتہا پسندوں نے صوبہ انبار میں ایک عراقی قبیلے کے 300 افراد کو ہلاک کر دیا، جن میں 50 بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کی لاشیں پانی کے ایک کنوں سے ملی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق اتوار کو بھی ہلاکتیں جاری رہی اور ان قتل کیے گئے افراد میں الابونمر قبیلے کے 50 افراد بھی شامل ہیں۔ جب کہ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز بھی 50 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق سے متعلق عراقی عہدیداروں نے اتوار کو بتایا کہ دولت اسلامیہ سے برسر پیکار قبیلے کے 65 افراد کو اس وقت اغوا کر لیا جب ان کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا تھا۔

مغربی میڈیا نے قبائلی رہنما نعیم الغود کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے بغداد حکومت سے بار بار مزید کمک اور اسلحہ کی درخواست کی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔

عراقی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزیراعظم حیدر العابدی نے ان ہلاکتوں کے رد عمل میں ہت کے قصبے کے قریب انتہا پسندوں کے ٹھکانوں کو فضائیہ کی مدد سے نشانے بنانے کا حکم دیا ہے۔

دوسری طر ف اتوار کو بغداد میں شیعہ زائرین کے خلاف ہونے والے تین کار بم حملوں میں 34 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایک دھماکا اس خیمے کے قریب ہوا جہاں ان زائرین میں کھانے تقسیم کیا جا رہا تھا جوعاشورہ کی مذہبی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے کربلا کی طرف جا رہے تھے۔

دو دوسرے بم حملوں میں سے ایک بغداد کے مرکز میں جب کہ دوسرا صدر سٹی میں ہوا جس میں کم ازکم 20 مزید افراد ہلاک ہو گئے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق کے ایک وسیع علاقہ پر قبضہ کیا ہوا ہے اور معمول سے عراق میں کار بم حملے کیے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG