رسائی کے لنکس

logo-print

عراقی بچوں کو عطیہ کیے جانے والے19 لاکھ ڈالر کے کمپیوٹر بازیاب


عراقی بچوں کو عطیہ کیے جانے والے19 لاکھ ڈالر کے کمپیوٹر بازیاب

عراقی کسٹم اتھارٹی نے امریکہ کی طرف سے سکول کے طالب علموں کے لیے عطیہ کیے جانے والے19 لاکھ ڈالر مالیت کے کمپیوٹروں میں سے 90 فی صد برآمد کرلیے ہیں جنہیں گذشتہ دنوں ایک سینیئر عراقی عہدے دار نے نیلام کردیاتھا۔

عراقی کسٹم اتھارٹی نے امریکہ کی طرف سے سکول کے طالب علموں کے لیے عطیہ کیے جانے والے19 لاکھ ڈالر مالیت کے کمپیوٹروں میں سے 90 فی صد برآمد کرلیے ہیں جنہیں گذشتہ دنوں ایک سینیئر عراقی عہدے دار نے نیلام کردیاتھا۔

عراقی کسٹم اتھارٹی کے محکمے سربراہ نوافل سلیم نے کہاہے کہ حکام نے فروخت منسوخ کر دی ہے اوروہ کمپیوٹروں کی کھیپ جنوبی بندر گاہ ام قصر واپس بھیج رہے ہیں جہاں پر انہیں نیلام کیا گیاتھا۔ انہوں نے کہا تاہم کمپیوٹر قانون کے مطابق نیلام کیے گئے تھے کیونکہ انہیں بندرگاہ پر پڑے ہوئے 90 دن سے زیادہ عرصہ گذر چکا تھا۔ اور تین ماہ کے اندر جن چیزوں کا کوئی دعوےدار سامنے نہیں آتا انہیں قانونی طور پر ضبط کرکے نیلام کردیا جاتا ہے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایک عراقی عہدے دار نے 15 اگست کو کمپیوٹروں کی اس کھیپ کو 50 ہزار ڈالر سے بھی کم میں نیلام کردیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان کمپیوٹروں کو بغداد کے جنوب میں واقع صوبے بلال کے سکولوں میں بھجوایا جاناتھا۔ فوج نے اس واقعہ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عراقی کسٹم حکام نے کہا ہے کہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ کمپیوٹروں کی اس کھیپ کا تعلق امریکی فوج سے تھا اور انہیں اسکول کے بچوں کے لیے بھیجا جارہاتھا۔

وسیع پیمانے پر بدعنوانی اور رشوت ستانی عراق کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کرپشن پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2008ء میں عراق کا شمار صومالیہ اور برما کے ساتھ تین بدعنوان ترین ملکوں کیاتھا۔


XS
SM
MD
LG