رسائی کے لنکس

داعش مشرقی موصل میں اپنے آخری ٹھکانوں سے بے دخل


عراقی فورسز مشرقی موصل پر قبضے کے بعد لوگوں کے ساتھ فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے داعش کا جھنڈا الٹا کر رکھا ہے۔ 24 جنوری 2017

پچھلے چند ہفتوں کے دوران عراقی فورسز وسطی موصل اور دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع علاقے پہلے ہی واپس لےچکی ہیں۔

عراقی سیکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مشرقی موصل میں اسلامک اسٹیٹ گروپ کے کنٹرول کے آخری علاقے بھی واپس لے لیے ہیں۔

اسلامک اسٹیٹ سے اس کے زیر قبضہ علاقے واپس لینے کے لیے فوجی کارروائیوں کو ایک سو دن سے زیادہ ہو چکے ہیں۔

عراقی فورسز نے اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کو شہر کے مغربی حصے کی طرف دھکیل کر دریائے دجلہ، موصل یونیورسٹی اور مشرقی علاقوں کا کنڑول سنبھال لیا ہے۔

عراقی فورسز نے اسلامک اسٹیٹ کے باقی ماندہ جنگجوؤں کو شمالی موصل کے دیہی علاقے چھوڑے پر مجبور کر دیا ہے جسے ایک امریکی کمانڈر نے عراقی عوام کے لیے ایک زبردست اور عظیم الشان کامیابی قرار دیا ہے۔

پچھلے چند ہفتوں کے دوران عراقی فورسز وسطی موصل اور دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع علاقے پہلے ہی واپس لےچکی ہیں۔

پچھلے ہفتے عراقی سٹاف جنرل طالب الشغاتی نے، جو انسداد دہشت گردی کی فورسز کی کمانڈ کر رہے ہیں، کہا تھا کہ موصل کے مشرقی حصے کو اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔

اب فوج کی توجہ موصل کے مغربی نصف حصے پر مرکوز ہو سکتی ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ نے منگل کے روز کہا کہ وہاں انہیں ساڑھے سات لاکھ عام شہریوں کے متعلق تشویش ہے جو خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

عراق میں دهشت گردی کی روک تھام اور داعش کے خلاف لڑنے والی بین الاقوامی فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سٹیفن جے ٹوسینڈ نے کہا ہے کہ مغربی موصل کی لڑائی شہر کے مشرقی حصے کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوگی۔

پنٹاگان کے ترجمان نیوی کیپٹن جیف ڈیوس نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ گروپ مشرقی موصل کی لڑائی میں اپنی بہت سے اہلیت اور اپنے بہت سے بہترین جنگجوؤں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

اس لڑائی کے دوران عراقی فورسز کو تقربیاً روزانہ کی بنیاد پر پانچ کار بم حملوں، گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں اور مارٹر گولوں کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشن کی ترجمان راوینا شامداسانی نے کہا ہے کہ ہمیں کئی ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ جو لوگ اسلامک اسٹیٹ کے کنڑول کے علاقوں سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں گولی مار دی جاتی ہے۔

ترجمان کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسند شہری علاقوں میں اسپتالوں اور اسکولوں کے نزدیک رہ رہے ہیں اور اتحادی أفواج کے فضائی حملوں سے بچنے کے لیے وہ بچوں اور عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG