رسائی کے لنکس

logo-print

رمادی: گھمسان کی لڑائی، عراقی افواج کے پہ در پہ حملے


ادھر، امریکی فوج جس بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کر رہی ہے، اُس نے رات بھر عراق میں 22 فضائی کارروائیاں کیں، جن میں دھیان رمادی، دولت اسلامیہ کے گڑھ موصل اور بیجی کی تیل کی رفائنری کے قریب کے رقبے پر مرکوز رہی

عراقی سرکاری افواج اور ملیشیا جنھیں ہفتے کو رمادی شہر کے قریب تعینات کیا گیا تھا، داعش کے لڑاکوں کے خلاف ہتھیار تھان لیے ہیں، جنھوں نے گذشتہ ہفتے صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرلیا تھا۔

مئی کا وسط جب سے اس شدت پسند گروپ نے پیش قدمی شروع کی، شام، اردن اور سعودی عرب سے ملنے والی سرحد پر واقع ملک کے اِس بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے مغربی صوبہٴانبار کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

امریکی فوج جس بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کرتی ہے، اُس نے رات بھر عراق میں 22 فضائی کارروائیاں کی ہیں، جن میں دھیان رمادی، دولت اسلامیہ کے گڑھ موصل اور بیجی کی تیل کی رفائنری کے قریب کے رقبے پر مرکوز رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اتحاد کے پانچ فضائی حملوں میں شام کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک بم حملے میں پلمیرہ (جسے تدمورا بھی کہا جاتا ہے) میں طیارہ شکن توپ خانے کے نظاموں کو تباہ کیا گیا، جہاں داعش کے شدت پسندوں نے اِسی ہفتے فتوحات کا ایک سلسلہ جاری رکھا تھا۔
داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کو اس قدیم شہر کے عجائب خانے پر دھاوا بول دیا تھا، جس سے قبل وہ سرکاری افواج پر حاوی آ گئے تھے۔

معمون عبدالکریم، دمشق میں واقع محکمہٴنوادرات اور میوزئیمز کے سربراہ ہیں۔

ہفتے کے روز اُنھوں نے بتایا کہ خطرات کے پیش نظر، اس تنصیب کی نوادرات کو محفوظ بنانے کے لیے بروقت ہٹا دیا گیا تھا۔ دہشت گرد گروپ نے اس سے قبل بھی کئی میوزیئمز کو تباہ کیا ہے۔

لہٰذا، پلمیرہ میں اُن کی موجودگی کے باعث بین الاقوامی برادری کو پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔ اس تنصیب کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے عالمی ورثے کا درجہ دے رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG