رسائی کے لنکس

logo-print

ہم عراق سے فوجیں واپس بلانے کا ہدف پورا کریں گے: اوباما


امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شڈول کے مطابق امریکہ عراق سے اپنا جنگی مشن 31اگست کوختم کر دے گا۔

مسٹر اوباما نے یہ بات پیر کے روز ریاست جورجیا کے شہر ایٹلانٹا میں معذور سابق فوجیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی انتظامیہ اِس ماہ کے اواخر تک عراق سے 90000سے زائد فوجی واپس بلوا لے گی۔

انتظامیہ کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ 31اگست سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی طرف سے‘ آپریشن عراقی فریڈم’ کے اختتام کا دِن ہوگا۔ نئے مشن کا نام ‘آپریشن نیو ڈان’ ہوگا، جس میں امریکی فوجی عراقی فوجیوں کی تربیت اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔

عبوری دور کے دوران 50000امریکی فوجیں عراق میں رہیں گی۔

صدر نے کہا کہ اُن کا ہدف یہ ہے کہ 2011 ء کے آخر تک سارے امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس لایا جائے، یعنی افواج کی سربراہی میں فوجی اقدام کی جگہ سفارت کاروں کی قیادت میں سویلین جستجو کرنا۔

مسٹر اوباما نے مزید کہا کہ وہ امریکی قائدین کی نئی پود کے خدمت سے سرشار ہونےکے جذبے پر شکر گزار ہیں۔ لیکن اُنھوں نے امریکیوں کو یاد دلایا کہ جہاں عراق سے فوجیں وطن واپس آئیں گی دوسری طرف افغانستان میں تعینات رہیں گی۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر کی حیثیت سے وہ نہیں چاہتے کہ القاعدہ اور اُس کے دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں کھلا چھوڑ دیں جہاں وہ وسیع پیمانے پر بغاوت کو جاری رکھیں اور اُنھیں موقع ملے کہ وہ مستقبل میں مزید حملے کرنے کی سازشیں کریں۔

مسٹر اوباما نے عراق سے فوجیوں کے انخلا کے نظام الاوقات کا اعلان گذشتہ سال فروری میں کیا تھا۔

سینیٹ میں ری پبلیکن پارٹی کے سرکردہ رکن، میچ مک کونیل نے اتوار کو صدر کی تعریف کی۔ لیکن مک کونیل نے زور دے کر کہا کہ جارج ڈبلیو بش کی پچھلی انتظامیہ نے ہی پہلی مرتبہ عراق سے 50000افواج کو واپس بلوانے کی تجویز پیش کی تھی۔


XS
SM
MD
LG