رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: جنگجوؤں کا تیل اسمگلنگ سے مالی وسائل کا حصول


وزارت تیل کے ایک مشیر کے مطابق جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں داعش نے تیل کی اسمگلنگ سے تقریباً ایک کروڑ ڈالر کمائے ہیں۔

عراق کے باغی جنگجوؤں نے اپنی اعلان کردہ ’خلافت‘ کے امور چلانے کے لیے ملک کے شمال میں اپنے زیر قبضہ چھوٹے تیل کے کنوؤں سے خام تیل کی فروخت شروع کر دی ہے۔

گزشتہ ماہ کے وسط میں دولت اسلامیہ فی عراق ولشام (داعش) کے شدت پسندوں نے موصل شہر کے قریب نجما اور قیارا جبکہ تکریت میں حمرین اور اجل کے تیل کنوؤں پر قبضہ کیا تھا۔

عراق کی کرکوک اور بصرہ کے قریب بڑے تیل کے ذخائر کے مقابلے میں عسکریت پسندوں کے قبضے میں کنوؤں کی مجموعی پیداوار بہت کم ہے۔

کرد حکام کے مطابق ان کنوؤں کی تعداد 80 کے قریب ہے جس میں سے بیشتر بند ہیں۔

عراقی عہدیداروں کے مطابق عسکریت پسند تنظیم نے حالیہ ہفتوں میں قیارا سے تیل کو شام میں ’موبائل ریفائنریز‘ بھیجا جہاں اسے کم درجے کی ’گیسولین‘ میں تبدیل کرنے کے بعد موصل میں فروخت کرنے کے لیے لایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نجما سے بھی تیل ترکی کے تاجروں کو صرف 25 ڈالر فی بیرل میں فروخت کیا گیا۔

موصل کی صوبائی کونسل کی کمیٹی برائے توانائی کے سربراہ ہشام البرفاکانی کا کہنا تھا ’’ہمارے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ داعش (کے عسکریت پسند) نجما سے خام تیل شام لے کر گئے تاکہ اسے غیر قانونی طور پر شام کے ہمسائے ملک لے جایا جائے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ داعش اس غیر قانونی تجارت سے لاکھوں ڈالر کا منافع حاصل کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق موصل میں داعش کے ساتھ کاروبار کرنے والے تاجر پٹرول ایک یا ڈیڑھ ڈالر فی لیٹر میں فروخت کر رہے ہیں۔

ایک عراقی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق ماضی کے برعکس تیل اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف رواں ماہ ہی کارروائیاں کی گئیں، جس میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔

عراق کی انسداد دہشت گردی کے ادارے کے ترجمان صبا نوری کا کہنا تھا ’’ہم نے 50 سے زائد ٹرک تباہ کیے۔ ہمارے ہیلی کاپٹرز نے اسمگلنگ کے اس (نیٹ ورک) پر سخت ضرب لگاتے ہوئے دہشت گردوں کو مالی امداد مہیا کرنے والے اہم ذریعے کو تباہ کیا ہے۔‘‘

وزارت تیل کے ایک مشیر کے مطابق جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں داعش نے تیل کی اسمگلنگ سے تقریباً ایک کروڑ ڈالر کمائے ہیں۔

XS
SM
MD
LG