رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: اہم قیدی عراقی حکومت کے سپرد


امریکہ نے اپنے پاس موجود بہت زیادہ اہمیت کے حامل عراقی قیدیوں میں سے کچھ کو عراقی حکومت کے حوالے کردیا ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ سابق نائب وزیر اعظم طارق عزیز کے ساتھ سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کے اندورنی حلقے سے تعلق رکھنے والے20 سے زیادہ عہدے داروں کو بدھ کے روز حکومت کے حوالے کیا گیا۔

عراقی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ افراد کیمپ کروپر کے امریکی حراستی مرکز میں قید تھے۔ امریکہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت جمعرات کے روز ایک تقریب میں اس کیمپ کا کنٹرول عراق کے حوالے کررہاہے۔

طارق عزیز کئی برس تک بیرونی دنیا میں صدام حسین کے ایک ترجمان کے طور پر کام کرتے رہے ۔ عراقی عدالتیں انہیں صدام حسین کے دور سے متعلق دو الگ مقدمات میں مجموعی طورپر 22 سال قید کی سزا سناچکی ہیں۔

طارق عزیز کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے اور اس سال کے شروع میں ان پر اسٹروک کاحملہ بھی ہوچکاہے۔ خاندان کے افراد ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق عراقی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز مغربی شہر فلوجہ میں مسلح افراد نے ایک صوفی عالم دین کے گھر میں گھس کر کم ازکم چار افراد کو ہلاک کردیا۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم ازکم چھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا صوفی عالم دین بھی زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں یا نہیں۔

صوفی عالم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ راہبانیت کی جانب مائل تھے اور اپنے پیروکاروں کو محبت ، امن اور تحمل و برداشت کا درس دیتے تھے، جو بعض کٹٹر اسلام پسندوں کے نزدیک بدعت کے مترادف تھا۔

XS
SM
MD
LG