رسائی کے لنکس

داعش کے لیے کیمیائی ہتھیار بنانے والی خاتون کو سزا


عراق میں 2015 میں ہونے والے ایک کیمیائی بم دھماکے کے مقام سے سبزی مائل دھواں اٹھ رہا ہے۔ فورسز نے داعش کا نصب بم ناکارہ بنا دیا تھا — فائل فوٹو
عراق میں 2015 میں ہونے والے ایک کیمیائی بم دھماکے کے مقام سے سبزی مائل دھواں اٹھ رہا ہے۔ فورسز نے داعش کا نصب بم ناکارہ بنا دیا تھا — فائل فوٹو

عراق کی حکومت نے کہا ہے کہ داعش (دولت اسلامیہ) سے وابستہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار بنانے کی ماہر ایک خاتون کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ابرار الکبائسی نامی خاتون داعش کے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار بنانے والی ٹیم کا اہم حصہ تھیں ہتھیار بنانے کے لیے تحقیق میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

عراق کے خفیہ ادارے فیلکن انٹیلی جنس سیل نے خاتون کی گرفتاری کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ تاہم یہ کہا گیا ہے کہ ان کو ایک آپریشن کے دوران کچھ عرصہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ کاؤنٹر ٹیررزم کے سربراہ ابو علی البصری نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ابرار الکبائسی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ داعش کی سب سے اہم تحقیق کار تھیں۔

ابو علی البصری کا دعویٰ تھا کہ ابرار الکبائسی نے داعش کے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ اس کے ملک اور بیرون ملک استعمال کے لیے داعش کی تنظیم نو میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

عراق کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے 'صباح' کو جاری بیان میں ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ کاؤنٹر ٹیررزم کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ابرار الکبائسی نے تسلیم کیا ہے کہ ان سے داعش کا رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا تھا۔

ان کے مطابق خاتون نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے شدت پسند گروہ کی عراق میں کئی ایسی دہشت گردانہ کارروائیوں میں مدد کی جن میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے تھے۔

ابو علی البصری کا کہنا تھا کہ دہشت گرد خاتون کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ شدت پسند تنظیم نے ان سے رابطہ کرنے کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا ہے۔ بعد ازاں ان کو اپنی کارروائیوں میں مدد گار بنا لیا۔

عراق میں 2015 کے آغاز میں شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے کارروائیوں کے لیے کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جنگ کے دوران عراقی فوج اور کرد ملیشیا کے کئی فوجیوں کی ہلاکت کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ہوئی ہیں۔ حملوں میں سلفر مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔

امریکہ اور عراق کے خفیہ اداروں کے حکام نے نومبر 2015 میں شدید خدشات ظاہر کیے تھے کہ داعش بہت تیزی سے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش میں مصروف ہے۔

خفیہ اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ عراق، شام یا خطے کے کسی اور ملک میں داعش ایسے تحقیق کار تلاش کرنے میں مصروف ہے جو اس کی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار بنانے میں مزید مدد کر سکیں۔

داعش نے 2016 میں جن کارروائیوں کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے ان ہتھیاروں میں کلورین اور سلفر کا استعمال کیا گیا تھا۔

خطے میں جنگ پر نظر رکھنے والے لندن کے ادارے 'آئی ایچ ایس کانفلیکٹ مانیٹر' کے مطابق 2016 میں شام اور عراق میں کم از کم 52 بار کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG