رسائی کے لنکس

logo-print

عراق سے وطن لوٹنے پر امریکی فوجیوں کا والہانہ استقبال


پچھلے ہفتے جب واشنگٹن نیشنل گارڈ سے تعلق رکھنے والے فوجی جب عراق سےواپس امریکہ پہنچے تو انکا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ وہ عراق میں ایک سال پورا کرکے وہ اپنے خاندان سے مل رہے تھے ۔ان میں سے بہت سے جلد ہی دوبارہ عراق بھیج دیے جائینگے۔

اس موقع پر ایک امریکی فوجی ٹیرینس سمتھ کا کہناتھا کہ میرا تو خیال تھا کہ بس سے اتر کر کار میں بیٹھوں گا اور سیدھے گھر پہنچ جاؤں گا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہاں اتنے لوگ ہوں گے۔

سارجنٹ ٹیرینس کی بیوی اور انکی سات سالہ بیٹی کو گیارہ مہینے سے انکا انتظار تھا۔ ان کی بیگم کا کہنا تھا کہ میں چاہتی تھی کہ میں جب ٹیرینس کو اتنے عرصے بعد دیکھوں تو اس موقع پر پر سکون اور اور سنجیدہ رہوں، لیکن میں نے جیسے ہی انہیں دیکھا تو میرے جذبات امڈ آئے ۔

ٹیرینس عراق سے اس وقت روانہ ہوئے جب وہاں 2003ءمیں صدام حسین کا تختہ الٹنے کا بعد دوسرے پارلیمانی انتخابات ہورہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ میں نے وہاں دیکھا اس کے مطابق اب ہم عراق چھوڑ سکتے ہیں۔اب ہم عراق کو عراقیوں کے حوالے کرسکتے ہیں۔ میر ے یونٹ میں ہم مقامی لوگوں سے بہت قریبی تعلق رکھتے تھے۔اور میرا خیال ہے کہ وہ اس قابل ہیں کہ اپنے ملک کو سنبھال سکیں۔

لیکن اس سے پہلے کہ عراقی اپنے ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالیں انہیں ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے۔انتخابات کے نتائج میں تاخیر کی وجہ سے نئی حکومت کی تشکیل میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔2005ءکے انتخابات کے بعد حکومت بننے میں پانچ مہینے لگ گئے تھے۔امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ 96 ہزار امریکی فوجی نئی حکومت کی تشکیل تک عراق میں رہےنگے۔ایک پر امن انتقال اقتدار کے بعد امریکی افواج میں کمی کی جاسکتی ہے۔

کئی امریکی فوجی عراق سے نکلتے ہوئے اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔

لورین ٹیلر کے منگیتر اسٹاف سارجنٹ کرسٹوفر ملر کو توقع ہے کہ انہیں جلد ہی افغانستان بھیجا جائیگا۔وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ کرینگے میں انکو سپورٹ کرونگی۔ اور یہ اپنے ملک کو سپورٹ کرتے ہیں اس لیے میں انکے ساتھ ہوں۔

وہ تاریخ جسکا عراق میں موجود امریکی افواج کو شدت سے انتظار ہے وہ ابھی بھی ایک سال سے زیادہ دور ہے جب 2011 ء کے آخر میں صدر اوباما کے مطابق امریکی افواج کا عراق سے انخلا مکمل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG