رسائی کے لنکس

حکام کے مطابق تکریت شہر کے قریب ایک کھلے مقام پر شادی تقریب میں شریک افراد میں ایک خودکش حملہ آور گھس گیا اور اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

عراق کے دارالحکومت بغداد کے شمال میں شادی کی ایک تقریب کے لیے اکٹھے ہونے والے افراد کو دو خودکش بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جس سے کم از کم 26 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی بتائی جاتی ہے۔

عراقی حکومت کے عہدیداروں نے جمعرات کو بتایا کہ یہ خودکش حملے ایک گاؤں میں بدھ کی شام کیے گئے۔

حکام کے مطابق تکریت شہر کے قریب ایک کھلے مقام پر شادی تقریب میں شریک افراد میں ایک خودکش حملہ آور گھس گیا اور اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

پہلے خودکش دھماکے کے بعد جب لوگ مدد کے لیے وہاں پہنچے تو اسی اثنا میں دوسرے خودکش بمبار نے دھماکا کر دیا۔

اس حملے کی کسی نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حکام کو شبہہ ہے کہ اس میں شدت پسند تنظیم ’داعش‘ ملوث ہو سکتی ہے جو اس سے قبل بھی ایسے حملے کرتی رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ شادی عراق کے صوبہ انبار سے نقل مکانی کرنے کے آنے والے ایک خاندان کی تھی اور اس صوبے کے قبائلی داعش مخالف سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں۔

اُدھر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے خلاف عراقی فورسز کی کارروائی جاری ہے اور حالیہ دنوں کے دوران سرکاری فورسز نے بہت سی اہم عمارتوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG